سَت بچن — Page 229
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۹ ست بچن دُکھ بھاگ جائے گا یہ تمام شہد اس آیت قرآنی کا ترجمہ ہے أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ ۱۰۵ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ، فَفِرُّوا إِلَى اللهِ یعنی جو لوگ خدا کے ہو رہتے ہیں اُن کو کسی کا خوف باقی نہیں رہتا اور وہ غم نہیں کرتے سوتم خدا تعالیٰ کی طرف بھا گو۔ اسی طرح ایک اور شعر با وا صاحب کا ہے اور وہ یہ ہے شہد مرے سو مر رہے پھر مرے نہ دو جی وار شید ہی میں پائے ہر نا مے لگے پیار یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام کی پیروی میں مرر ہے ایسے لوگ پھر نہیں مریں گے خدا کے کلام سے خدا ملتا ہے اور اُس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ شعر باوا صاحب کا ان آیات سے لیا گیا ہے ان الْمُتَّقِيْنَ فِي مَقَامٍ أَمِيْنِ لَا يَذُوقُوْنَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَى وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ یعنی منتقی امن کے مقام میں آگئے وہ بجز پہلی موت کے جو ان پر وارد ہو گئی پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور خدا اُن کو جہنم کے عذاب سے بچائے گا اس میں بھید یہ ہے کہ مومن متقی کا مرنا چار پائیوں اور مویشی کی طرح نہیں ہوتا بلکہ مومن خدا کیلئے ہی جیتے ہیں اور خدا کیلئے مرتے ہیں اسلئے جو چیزیں وہ خدا کیلئے کھوتے ہیں اُن کو وہ واپس دی جاتی ہیں جیسا کہ امام المومنین سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اللہ جل شانہ نے فرمایا قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَالَمین نے یعنی کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی جو لوگ میرے کلام کی پیروی کریں نہ اُن پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ ملین ہوتے ہیں سو یہ موتیں اور ذلتیں جو دنیا پرستوں پر آتی ہیں ان موتوں کے خوف سے وہ لوگ رہائی پا جاتے ہیں جو کہ خود رضائے الہی میں فانی ہو کر روحانی طور پر موت قبول کر لیتے ہیں پھر ایک شعر میں باوا صاحب فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے ا یونس : ۶۳ ۲ الذاریات: ۵۱ ۳ الدخان : ۵۲ ۲ الدخان: ۵۷ ۵ الانعام: ١٦٣ ١ البقرة : ٣٩۔