سَت بچن — Page 217
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۷ ست بچن زندہ گواہ ہے اور اسی کو باوا صاحب اپنے مذہب اور ملت کی یادگار چھوڑ گئے اور اگر ان کے ۹۳ فوت ہونے کے بعد اُن کے گھر میں سے اُن کی طریق زندگی کا نشان برآمد ہوا تو یہی چولہ برآمد ہوا کوئی گرنتھ کی جز برآمد نہیں ہوئی بلکہ دوسو تین سو برس بعد عوام الناس کی زبانی اکٹھا کیا گیا پس جب کہ ایک برس کے فرق سے بھی ہزاروں تغیر اور تبدل پیدا ہو جاتے ہیں پھر دوسو تین سو برس کے فرق کے بعد کیا کچھ تغیرات اور تحریفات نہیں ہوئے ہوں گے اور یادر ہے کہ دوسو برس کے بعد میں جمع کیا جانا اُن گوروؤں کی شعروں کی نسبت ہے جو گورو ارجن داس صاحب سے پہلے گزر چکے لیکن جو گورو ۔ گورو ارجن داس صاحب کے بعد آئے اُن کے اشعار تو قریباً تین سو برس کے بعد میں لکھے گئے ہوں گے اور اب تک ٹھیک پتہ نہیں کہ وہ کس نے لکھے اور ان کا جمع کرنا گورو ارجن داس کی طرف کیوں منسوب کیا گیا کیونکہ گورو ارجن داس صاحب تو اُن سے پہلے فوت ہو چکے تھے پھر عجیب تریہ کہ اُن شعروں کے آخر میں بھی نانک کا لفظ لگایا گیا اور صد با شعر با وانا تک صاحب کے ایسے ترک کئے گئے اور گرنتھ میں نہیں لکھے گئے جن میں باوا صاحب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور اسلام کی تعریف اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے تھے چنانچہ چشتی سلسلہ کے لوگ جن کے ساتھ اُن کا تعلق تھا اب تک ان شعروں کو یاد کرتے اور پڑھتے ہیں۔ ان تمام امور پر نظر ڈال کر ایک حق کا طالب جلد سمجھ سکتا ہے کہ باوا نانک صاحب کے مذہب کی اصل حقیقت دریافت کرنے کیلئے صرف موجودہ گرنتھ پر مدار رکھنا سخت غلطی ہے اس کو کون نہیں جانتا کہ موجودہ گرنتھ کی صحت کے بارہ میں بہت سی پیچیدگیاں اور وقتیں واقع ہو گئی ہیں اور وہ تمام اشعار دو تین سو برس تک ایک پوشیدگی کے گہرے پانی میں غوطہ لگانے کے بعد پھر ایسے زمانہ میں ظاہر ہوئے جس میں سکھ صاحبان کے اصل مذہب کا رنگ بدل چکا تھا اور وہ اپنی اس حالت میں اس قسم کے شعر ہر گز جمع نہیں کر سکتے تھے جن میں باوا صاحب کے مسلمان ہونے کی تصریحات تھیں اور ایسے بے ثبوت اور بے سند طور پر وہ جمع کئے گئے کہ جن میں جعلسازوں کو بہت کچھ خلط ملط کرنے کا موقعہ تھا گورو ارجن داس صاحب کی گو کیسے ہی نیک نیت ہو