سَت بچن — Page 216
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۶ (۹۲) تار دو کہ قریب ہے جو ڈوب جائیں۔ پھر صفحہ ۳۲۸ گرنتھ میں فرماتے ہیں ہم پاپی برگن کو گن کریے پر بھی ہوئے دیال نانک جن تریے یعنی ہم بڑے گنہ گار ہیں کوئی نیکی نہیں کیا نیکی کریں خدا افضل کرے تو تب ہم تریں یعنی نجات پاویں اسی طرح چولہ صاحب میں یہ لکھا ہوا موجود ہے ست بچن لا إلهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبده ورسوله یعنی اے خدا تو پاک ہے تیرے سوا اور کوئی نہیں میں ظالموں میں سے تھا اور اب میں گواہی دیتا ہوں کہ سچا خدا اللہ ہے اُس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اُس کا بندہ اور اُس کا پیغمبر ہے۔ اب دیکھو کہ کس تضرع اور عاجزی سے باوانا تک صاحب اپنے گناہوں کا اقرار کر کے صاف کہتے ہیں کہ میں پہلے اس سے ظالم تھا اور اب میں مانتا ہوں کہ اللہ سچ اور محمد اُس کا رسول برحق ہے۔ سو ان کے اس تمام بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوائل زمانہ میں اس معرفت سے بے خبر تھے کہ دین الہی دین اسلام ہے اگر چہ وہ تعصب سے ہمیشہ دور رہے اور خدا تعالیٰ نے اُن کا دل ہندوؤں کے تعصب سے خالی پیدا کیا تھا اور حق کی طلب ہوش پکڑتے ہی اُن کو دامنگیر ہو گئی تھی مگر بشری غفلت کی وجہ سے اوائل ایام میں اُس زندگی کے چشمہ سے بے خبر تھے جس کا نام اسلام ہے اس لئے کچھ تعجب کی بات نہیں کہ وہ پہلے دنوں میں اپنے شعروں میں ایسے خیالات ظاہر کرتے ہوں جو اسلام کے مخالف ہوں اور تکذیب کے رنگ میں ہوں مگر جب اُن کو یہ سمجھ آ گئی کہ در حقیقت اسلام ہی سچا ہے اور فی الواقعہ حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے پیغمبر اور خدا کے پیارے ہیں تب تو اُنہوں نے اپنی پہلی زندگی کا چولا اُتار دیا اور اسلامی چولا پہن لیا اور یہ چولہ جو اب تک کابلی مل کی اولاد میں چلا آتا ہے یہ در حقیقت طرز زندگی کے تبدیل کرنے کا نشان ہے پہلا چولہ انکار کا اُتار کر اور آگ میں جلا کر یہ چولہ اقرار کا خدا تعالیٰ کے فضل نے اُن کو پہنا دیا جواب تک چار سو برس سے موجود ہے اور باوا صاحب کی آخری عمر کی سوانح کا ایک ل الانبياء: ۸۸