سَت بچن — Page 208
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۰۸ ست بیچن ۸۴ تناسخ کی جو قرآن میں بیان ہے یہ ہے جو انسانی نطفہ ہزار ہا تغیرات کے بعد پھر نطفہ کی شکل بنتا ہے مثلاً اول گندم کا دانہ ہوتا ہے اور ہزاروں برس اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ زمیندار اُس کو زمین میں ہوتا ہے اور وہ سبزہ کی شکل پر ہو کر زمین سے نکلتا ہے آخر دانہ بن جاتا ہے پھر کسی وقت زمیندار اُس کو ہوتا ہے اور پھر سبزہ بنتا ہے اسی طرح صد ہا سال ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور ہزارہا قالب میں وہ دانہ آتا ہے یہاں تک کہ اُس کے انسان بنے کا وقت آ جاتا ہے تب اُس دانہ کو کوئی انسان کھا لیتا ہے اور اُس سے انسانی نطفہ بن جاتا ہے جیسا کہ مثنوی رومی میں ہے۔ هفصد و هفتاد قالب دیده ام بارہا چوں سبزہ ہاروئیده ام سو باوا صاحب کے کسی شعر میں اگر کوئی اشارہ تناسخ یعنی اواگون کی طرف پایا جاتا ہے سو وہ اشارہ در حقیقت ان تین تناسخوں میں سے کسی تناسخ کی طرف ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے جو نہ اس وید والے تناسخ کی طرف جس کیلئے ضرور ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے خالق ہونے سے انکار کرے اور نجات کو ابدی نہ سمجھے اور خدا تعالیٰ کی نسبت یہ عقیدہ رکھے کہ وہ گناہ نہیں بخشا اور کسی کی تو بہ قبول نہیں کرتا اور کسی پر رحم نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ باوا صاحب ایسے گندے عقیدوں سے سخت بیزار تھے وہ خدا تعالیٰ کو روحوں اور جسموں کا پیدا کنندہ جانتے تھے اور نجات ابدی پر اعتقاد ر کھتے تھے اور اللہ جل شانہ کو گناہ بخشنے والا یقین رکھتے تھے اور اُن کا یہ صاف اور کھلا کھلا عقیدہ تھا کہ انسان، بیل، گدھا ایسا ہی ہر ایک جاندارخدا تعالیٰ نے آپ اپنی مرضی سے اور اپنے ارادہ سے پیدا کیا ہے اور کوئی روح قدیم نہیں بلکہ تمام روحیں اُسی کی پیدائش ہیں۔ پھر اس عقیدہ والا آدمی ہندوؤں کے اواگون کو ماننے والا کیونکر ہو سکتا ہے دیکھو با وا صاحب فرماتے ہیں۔ سو کیوں منو و ساریئے جا کے جیا پر ان تیس دن سب آپوتر ہے جیتا پیئن کھان یعنی اسکو کیوں دل سے فراموش کرتا ہے جسکی پیدائش روح اور جسم ہے اس کے بغیر تمام کھا نا پہنانا پاک ہے اب دیکھو با وا صاحب اس شعر میں صاف اقرار کرتے ہیں کہ جیو اور جسم دونوں خدا تعالیٰ کی پیدائش اور اُسکی ملکیت ہیں مگر تناسخ والے تو ایسا نہیں کہتے اس سے تو انکا تناسخ ٹوٹتا ہے۔ یا نوٹ ۔ ایک اور طرح آنا جانا روحوں کا قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بدکاروں کی روحوں کیلئے آسمان کے دروازے نہیں گھلتے اور پھر وہ زمین کی طرف رد کئے جاتے ہیں قال الله تعالى وَلَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ منه ل (الاعراف:۴۱)