سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 550

سَت بچن — Page 207

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۰۷ ست بچن تمام نہ کرے اور پاک ریاضتوں سے گندے جذبات اپنے دل میں سے نکال نہ دیوے تب ۸۳ تک وہ کسی نہ کسی حیوان یا کیڑے یا مکوڑے سے مشابہ ہوتا ہے اور اہل باطن کشفی نظر سے معلوم کر جاتے ہیں کہ وہ اپنے کسی مقام نفس پرستی میں مثلاً بیل سے مشابہ ہوتا ہے یا گدھے سے یا ستے سے یا کسی اور جانور سے اور اسی طرح نفس پرست انسان اسی زندگی میں ایک جون بدل کر دوسری جون میں آتا رہتا ہے ایک جون کی زندگی سے مرتا ہے اور دوسری جون کی زندگی میں جنم لیتا ہے اسی طرح اس زندگی میں ہزار ہا موتیں اُس پر آتی ہیں اور ہزار ہا جو میں اختیار کرتا ہے اور اخیر پر اگر سعادت مند ہے تو حقیقی طور پر انسان کی جون اُس کو ملتی ہے اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سور بن گئے سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہو گئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سوروں کی طرح نفسانی جذبات اُن میں پیدا ہو گئے تھے غرض یہ قسم تناسخ کی اسی دنیا کی زندگی کے غیر منقطع سلسلہ میں شروع ہوتی ہے اور اسی میں ختم ہو جاتی ہے اور اس میں مرنا اور جینا اور آنا اور جانا ایک حکمی امر ہوا کرتا ہے نہ واقعی اور حقیقی ۔ اور دوسری قسم تناسخ کی وہ ہے جو قیامت کے دن دوزخیوں کو پیش آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک دوزخی جس گندے جذبہ میں گرفتار ہو گا اُسی کے مناسب حال کسی حیوان کی صورت بنا کر اُس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا مثلاً جو لوگ شکم پرستی کی وجہ سے خدا سے دور پڑ گئے وہ کتوں کی شکل میں کر کے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو لوگ شہوت کے جماع کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردان ہو گئے وہ سوروں کی شکل میں دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جن لوگوں نے نافرمانی کر کے بہت سے حیوانوں کے ساتھ مشابہت پیدا کر لی تھی وہ بہت سی جونوں میں پڑیں گے اس طرح پر کہ ایک جون کو ایسی حالت میں ختم کر کے جو موت سے مشابہ ہے دوسری جون کا چولہ پہن لیں گے اسی طرح ایک جون کے بعد دوسری جون میں آئیں گے اور نہ ایک موت بلکہ ہزاروں موتیں اُن پر آئیں گی اور وہ موتیں وہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ثبور کثیر کے لفظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے مگر مومنوں پر بجز ایک موت کے جو موتہ اولی ہے اور کوئی موت نہیں آئے گی۔ تیسر کی قسم