سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 550

سَت بچن — Page 206

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۰۶ ست بچن ۸۲ اصطلاحی الفاظ کے نیچے اس کو لکھتے ہیں کہ آسا محلہ پہلا یا گوڑی محلہ پہلامگر چونکہ گرنتھ کے اشعار باوا صاحب سے دوسو برس بعد بلکہ اس کے پیچھے بھی لکھے گئے ہیں اور اُن کے جمع کرنے کے وقت کوئی ایسی تنقید اور تحقیق نہیں ہوئی کہ جو تسلی بخش ہو لہذا ضرورت نہیں کہ بغیر باضابطہ تحقیق کے خواہ نخواہ قبول کئے جائیں بلکہ تناقض کے وقت وہ حصہ اشعار کا ہرگز قابل پذیرائی نہیں ہو سکتا جو ایسے دوسرے حصہ کا نقیض پڑا ہو جس کی صحت مختلف طریقوں اور انواع اقسام کے قرینوں اور یقینی اور قطعی شواہد کی تائید سے بپایہ ثبوت پہنچ گئی ہومگر تا ہم سکھ صاحبوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ایسے اشعار جو گرنتھ کے پہلے محلہ میں لکھے گئے ہیں قریبا وہ سارے ایسے ہیں کہ اُن میں سے کوئی بھی اسلامی تعلیم سے مخالف نہیں اور نہ اُن میں کوئی لفظ تکذیب اور تو ہین اسلام کا موجود ہے بلکہ وہ اسلامی تعلیم سے عین موافق ہیں اور اگر کوئی کسی شعر کو اسلامی تعلیم کے مخالف سمجھے یا اُس میں کوئی تو ہین کا لفظ خیال کرے تو یہ اُس کے فہم کی غلطی ہے ہاں اگر شاذ و نادر کے طور پر کوئی ایسا شعر ہو بھی جو الحاق کے طور پر عمد ایا سہوا اُن سے ملایا گیا ہو تو ایسا شعر حصہ کثیرہ کے نقیض واقع ہونے کی وجہ سے خودردی کی طرح ہوگا اور اعتبار سے ساقط ہوگا اور اُس کے جھوٹا ٹھہرانے کی لئے نانک صاحب کے دوسرے شعر اور نیز دوسرے آثار یقینی اور قطعی ذریعہ ہوگا کیونکہ کسی ایک شعر کے مقابل پر صدہا شعروں اور دوسرے روشن ثبوتوں کا باطل ہونا غیر ممکن ہے بلکہ وہی باطل ٹھہرے گا جو اس قطعی ثبوت کے مقابل پڑا ہے مگر پھر بھی اُس صورت میں کہ اس کے کوئی اچھے معنے نہ ہوسکیں۔ یہ دھوکا بھی رفع کرنے کے لائق ہے کہ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ باوانا تک صاحب کے بعض اشعار میں سے تناسخ یعنی اواگون کا مسئلہ پایا جاتا ہے اور یہ اسلامی اصول کے برخلاف ہے سو واضح ہو کہ اسلام میں صرف وہ قسم تناسخ یعنی اواگون کی باطل اور غلط ٹھہرائی گئی ہے جس میں گذشتہ ارواح کو پھر دنیا کی طرف لوٹا یا جاوے لیکن بجز اس کے اور بعض صورتیں تناسخ یعنی اواگون کی ایسی ہیں کہ اسلام نے اُن کو روا رکھا ہے چنانچہ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ ایک شخص جو اس دنیا میں زندہ موجود ہے جب تک وہ تزکیہ نفس کر کے اپنا سلوک