سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 550

سَت بچن — Page 205

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۰۵ ست بچن اگر کسی کو اپنی کو نہ اندیشی کی وجہ سے یہ شبہ گذرے کہ یہ صیحتیں تو نا نک صاحب نے دوسروں (۸۱) کو دی ہیں مگر آپ اس کے پابند نہیں تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نیک آدمیوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ایسی نصیحت کسی دوسرے کو ہرگز نہیں دیتے جس کے آپ پابند نہ ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا بِ أَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ کیا تم لوگوں کو نیک باتوں کے لئے نصیحت کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھلا دیتے ہو یعنی آپ اُن نیک باتوں پر عمل نہیں کرتے اور اگر کہو که نانک صاحب ان باتوں کو اپنے دل میں اچھی باتیں نہیں سمجھتے تھے مگر پھر بھی دوسروں کو اُن کی پابندی کے لئے نصیحت کرتے تھے تو یہ طریق نہایت ناپاکی کا طریق ہوگا کیونکہ بُرے عقیدوں اور غلط خیالوں پر قائم رہنے کے لئے لوگوں کو نصیحت کرنا اچھے آدمیوں کا کام نہیں ہے۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ جولوگ گرنتھ میں سے کوئی امر مخالف تعلیم اسلام نکالنا چاہتے ہیں ایسی سعی اور کوشش اُن کی محض دھوکہ اور خیانت کی راہ سے ہوگی کہ وہ غلطی سے یا عمدا بددیانتی سے ایسے شعر پیش کریں جو در حقیقت با وانا نک صاحب کی طرف سے نہیں بلکہ گرنتھ جمع کرنے والوں نے خود بنا کر نا حق اُن کی طرف منسوب کر دئے ہیں چنانچہ یہ امر گرنتھے دانوں میں ایک مسلم اور مانی ہوئی بات ہے کہ بہت سے ایسے شعر گرنتھ میں موجود ہیں جن کے اصل مصنف باوانا نک صاحب نہیں ہیں بلکہ صرف فرضی طور پر اُن شعروں کے آخر میں نانک کا اسم ملا دیا گیا ہے اور ایک ناواقف یہی خیال کرتا ہے کہ گویا وہ باوانا نک صاحب کے ہی شعر ہیں پس یہ امر بھی بددیانتی میں داخل ہے کہ کوئی شخص دیدہ دانستہ ایسا شعر اس غرض سے پیش کر دیوے کہ تالوگ اُس کو باوا نا نک صاحب کا شعر سمجھ کر اس دھو کہ میں پڑ جائیں کہ گویا یہ باوا نا نک صاحب کے وہی شعر ہیں جو گرنتھ کے ایسے مقام میں لکھے گئے ہیں جہاں یہ لفظ موجود ہے کہ آسا محلہ پہلا یا گوڑی محلہ پہلا اور یہ امر گرنتھ دانوں میں ایک متفق علیہ امر ہے کہ نانک صاحب کا اسم کسی مصلحت سے اور شعروں کے اخیر میں بھی ملا دیا گیا ہے جو درحقیقت باوانا نک صاحب کی طرف سے نہیں ہیں مگر جو اشعار خاص باوا صاحب کے مونہہ سے نکلے ہیں یعنی جن کی نسبت یہ عقیدہ گرنتھ جمع کرنے والوں کا ہے کہ یہ شعر خود ان کے بنائے ہوئے ہیں اُن کی اُنہوں نے یہی علامت رکھی ہے کہ ان ل البقرة : ۴۵