سَت بچن — Page 182
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۲ ست بچن ۵۸) ان میں موجود نہیں مگر ہم اگر چہ دونوں آنکھیں بھی بند کر لیں پھر بھی کسی طرح باوا صاحب کے اسلام کو چھپا نہیں سکتے انہوں نے فی الواقع اسلامی عقائد کو سچ اور صحیح اور درست جانا اور اپنے اشعار میں اُن کی گواہی دی اور نیز اپنے اشعار میں صاف اقرار کیا کہ مدار نجات لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہے اور اسلام کے مشائخ سے بیعت کی اور اولیا کے مقابر پر چله نشینی اختیار کر کے نماز اور روزہ میں مشغول رہے اور دو حج کئے اور اپنے چولہ صاحب کو آئندہ نسلوں کے لئے ایک وصیت نامہ چھوڑ گئے اب بھی اگر باوا صاحب مسلمان نہیں تو اس سے زیادہ کوئی ظلم نہیں ہوگا بلاشبہ باوا صاحب کے قول اور فعل سے ان کا اسلام ایسا ثابت ہوتا ہے کہ جیسے نصف النہار میں آفتاب چاہئے کہ ہر یک مسلمان ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھے اور اخوت اسلامی میں داخل تصور کرے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ باوا صاحب مسیح ابن مریم کے نزول اور حیات کے قائل نہیں تھے بلکہ اُسی بروز کے قائل تھے جو صوفیوں میں مسلم ہے یعنی بعض وقت بعض گذشتہ صلحاء کی کوئی ہم شکل روح جو نہایت اتحاد اُن سے رکھتی ہے دنیا میں آجاتی ہے اور اس روح کو اُس روح سے صرف مناسبت ہی نہیں ہوتی بلکہ اُس سے مستفیض بھی ہوتی ہے اور اس کا دنیا میں آنا بعینہ اُس روح کا دنیا میں آنا شمار کیا جاتا ہے اس کو متصوفین کی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں سو اس کے باوا صاحب قائل ہیں باوا صاحب کے چولہ میں یہ تحریر موجود ہے کہ خدا وہ سچا خدا ہے جس کا نہ کوئی باپ نہ بیٹا اور نہ ہمسر ہے اور ایسے اشارے اُنہوں نے اپنے شعروں میں بھی بہت کئے ہیں۔ اس سے کچھ تعجب نہیں کہ باو اصاحب کو کشفی طور پر معلوم ہو گیا ہو کہ تین سو برس کے بعد اس ملک ہند پر نصاری کا تسلط ہوگا اور اُن کے ایسے ہی عقیدے ہوں گے سو انہوں نے نصیحت کے طور پر سمجھا دیا کہ اگر اُن کا زمانہ پاؤ تو ان کے مذہب سے پر ہیز کرو کہ وہ لوگ مخلوق پرست اور بچے اور کامل خدا سے دور اور بے خبر ہیں۔ اور در حقیقت باوا صاحب جس خدا کی طرف اپنے اشعار میں لوگوں کو کھینچنا چاہتے ہیں اُس پاک خدا کا نہ ویدوں میں کچھ پتہ لگتا ہے اور نہ عیسائیوں کی انجیل محرف مخرب میں۔ بلکہ وہ کامل اور پاک خدا قرآن شریف کی مقدس آیات میں جلوہ نما ہے چنانچہ میں ابھی نمونہ کے طور پر لکھوں گا اور آئندہ قصد رکھتا ہوں کہ باوا صاحب