سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 550

سَت بچن — Page 178

روحانی خزائن جلد ۱۰۔ IZA ست بچن طب کرتا ہوا ہندوؤں کے ساتھ مل کر گنگا پر جا کر اشنان کرے تو اگر چہ وہ دل سے مسلمان ہو مگر میں اُس کو ایک نیک انسان نہیں سمجھوں گا کیونکہ اگر اُس کو خدا تعالیٰ پر بھروسہ ہوتا تو وہ اپنے ہر یک مطلب کو نہ کسی فریب کے ذریعہ سے بلکہ خدا تعالیٰ کے ذریعہ سے ہی حاصل کرنا چاہتا۔ سو کوئی پاک طبع ایسے انسان پر کسی طرح راضی نہیں ہو سکتا جو دین کے شعار کو بعض نفسانی اغراض کے لئے چھوڑتا ہے ظاہر ہے کہ جب بابا نانک صاحب فریب کے طور پر مسلمان بن کر مکہ میں گئے ہوں گے تو راہ میں بار بار اُن کو اپنے قافلہ کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑتا ہوگا اور ہر ایک کو محض دروغ گوئی کے طور پر کہتے ہوں گے کہ میں مسلمان ہوں اور دکھلانے کے لئے کلمہ بھی پڑھتے ہوں گے اور پنج وقت نماز بھی پڑھتے ہوں گے کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اور بظاہر مسلمان بن کر سفر کرے وہ نماز پڑھنے سے اپنے تئیں روک نہیں سکتا بالخصوص جبکہ کسی نے حاجیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کا قصد کیا ہو تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھے اور قافلہ کے لوگ اُس سے دریافت نہ کریں کہ کیا وجہ کہ آج تو نے نماز نہیں پڑھی غرض ایسا مکروہ فریب کہ اندر سے ہندو ہونا اور بظاہر کلمہ بھی پڑھنا روزہ بھی رکھنا اور حاجیوں کے ساتھ حج کرنے کے لئے جانا کسی نیک انسان سے ہرگز صادر نہیں ہوسکتا بلکہ ایسی حرکتیں صرف اُن لوگوں سے سرزد ہوتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں ہوتا اور نفسانی اغراض کے لئے بہروپیوں کی طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں بہتر ہے کہ سکھ صاحبان ایک منٹ کے لئے اس کیفیت کا خاکہ اپنے اندر کھینچیں اور آپ ہی سوچیں کہ ایسی حرکات ایک پارسا انسان کے چال چلن کو داغ لگاتی ہیں یا نہیں راستبازوں کی زندگی نہایت صفائی اور سادگی سے ہوتی ہے وہ اس طرح کے فریبوں سے طبقا کراہت کرتے ہیں جو اُن کی یکرنگی میں خلل انداز ہوں۔ اور میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ یہ افترا کہ گویا مکہ بابا صاحب کے پیروں کی طرف پھرتا تھا نہایت مکر وہ افترا ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیہودہ باتیں اُس وقت کتاب میں ملائی گئیں ہیں کہ جب بابا نانک صاحب کا حج کرنا بہت مشہور ہو گیا تھا اگر معقولی طور پر کچھ باتیں زیادہ کی جاتیں تو شاید بعض لوگ دھو کہ میں آ جاتے مگر اب اس زمانہ میں اس نا معقول جھوٹ کو کوئی طبیعت قبول نہیں کر سکتی میں اُن لوگوں کے ساتھ اتفاق نہیں کر سکتا جو کہتے ہیں کہ بابا صاحب مکہ میں نہیں گئے ۔ کیونکہ جب تک کسی بات کی کچھ اصلیت نہ ہو محض افترا کے طور پر کسی مشہور انسان کی سوانح میں اتنا بڑا