سَت بچن — Page 176
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۶ ست بچن ۵۶﴾ کیونکہ اس عذر کے پیش کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں یہی رسم ہے کہ جس سے شکست کھاویں اس کو چولہ بنا کر دیا کرتے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں ہو سکتا کہ ایسا چولا پہلے کسی قاضی ** کے پاس موجود ہو اور با وا صاحب نے زبر دستی فتح پا کر اُس سے چھین لیا ہو۔ کیونکہ اس بات کو فتح سے کچھ تعلق نہیں کہ اگر کسی مذہبی مباحثہ میں کوئی غالب ہو تو وہ اس بات کا مجاز سمجھا جائے کہ کسی کا اثاث البیت یعنی گھر کا مال اپنے قبضہ میں لے آوے پھر فتح پانا بھی سراسر جھوٹ ہے۔ اگر باوا صاحب مذہبی امور میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے پھرتے اور جابجا اسلام کی تکذیب کرتے تو پھر ان کے جنازہ پر مسلمانوں کا یہ جھگڑا کیوں ہوتا کہ یہ مسلمان ہے۔ اور صد با مسلمان جمع ہو کر اُن کا جنازہ کیوں پڑھتے ۔ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص مذہبی امر میں لڑنے جھگڑنے والا ہو اُس کے دشمن دین ہونے میں کسی کو اشتباہ باقی نہیں رہتا۔ پھر اگر باوا صاحب حقیقت میں اسلام کے دشمن تھے تو کیوں اُن کا جنازہ پڑھا گیا اور کیوں اُنہوں نے بخارا کے مسلمانوں کی طرف اپنی سخت بیماری کے وقت خط لکھا کہ اب میری زندگی کا اعتبار نہیں تم جلد آؤ اور میرے جنازہ میں شریک ہو جاؤ کیا کبھی کسی مسلمان نے کسی پادری یا پنڈت کے مرنے کے بعد اُس کی نماز جنازہ پڑھی یا اُس میں جھگڑا کیا یہ نہایت قوی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ دین اسلام کے ہرگز مکذب نہ تھے بلکہ مسلمان تھے تبھی تو علماء صلحا اُن سے محبت رکھتے تھے۔ ورنہ ایک کافر سے محبت رکھنا کسی نیک بخت کا کام نہیں چشتیہ خاندان میں اب تک باوا صاحب کے وہ اشعار زبان زد خلائق ہیں جن میں وہ اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور وہ اشعار چونکہ اکابر کے سینہ بسینہ چلے آئے ہیں اس لئے گرنتھ کے اشعار سے جو دوسو برس کے بعد عوام الناس کی زبان سے لکھے گئے بہت زیادہ معتبر اور سند پکڑنے کے لائق ہیں چنانچہ ان میں سے ایک یہ شعر ہے کلمہ کہوں تو گل پڑے بن کلمہ گل نا جہاں کلمہ کہو لئے سب کل کلمہ میں ما یعنی مجھے اسی میں آرام آتا ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کہوں اور بغیر اس کے مجھے آرام نہیں آتا جہاں کلمہ کا ذکر ہو تو تمام آرام اُس سے مل جاتے ہیں۔ * اور یہ یقین اور بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ با و اصاحب ایک مدت در از تک اسلامی ملکوں میں رہے اور تمام مسلمانوں نے اُن سے محبت کی بلکہ نانک پیران کو نوٹ ۔ یہ بات نہایت بے حیائی کی ہے کہ جس دعوی کی تائید میں کوئی تحریری ثبوت اپنے پاس موجود نہ ہو اور کوئی ایسی کتاب اپنے ہاتھ میں نہ ہو جس میں ثابت شدہ روایت اور اس زمانہ کی کتاب کے مخالف یہ قصہ معلوم ہوا ہو تو پھر محض مذہبی تعصب کی رو سے ایسا جھوٹا قصہ بنایا جائے ۔ منہ حاشیہ دیکھیں اگلے صفحہ پر ۔ ( ناشر )