سَت بچن — Page 171
روحانی خزائن جلد ۱۰ 121 وہ کہو جو رضا ہو مگر ٹن لو بات وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکش پات کہ حق جو سے کرتار کرتا ہے پیار وہ انساں نہیں جو نہیں حق گذار کہو جبکہ پوچھے گا مولی حساب تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب میں کہتا ہوں اک بات اے نیک نام ذرہ غور سے اس کو سنیو تمام کہ بیشک یہ چولہ پُر از نور ہے تمرد وفا سے بہت دور ہے دکھا ئیں گے چولہ تمہیں کھول کر کہ دو اُس کا اثر ذرا بول کر یہی پاک چولا رہا اک نشاں گرو سے کہ تھا خلق پر مہربان اسی پر دوشالی چڑھے اور زر یہی فخر سکھوں کا ہے سربسر یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں عمل بد کئے ہو گئے سرنگوں خدا کے لئے چھوڑو اب بغض و کیں ذرہ سوچو باتوں کو ہو کر امیں صدق و محبت وہ مہر و وفا جو نانک سے رکھتے تھے تم برملا دکھاؤ ذرا آج اس کا اثر اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر گرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں کہاں ہیں جو نانک کے ہیں خاک پا جو کرتے ہیں اُس کے لئے جاں فدا کہاں ہیں جو اُس کے لئے مرتے ہیں جو ہے واک اُس کا وہی کرتے ہیں کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اس پر نثار جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے پیار کہاں ہیں جو ر کھتے ہیں صدق و ثبات گرو سے ملے جیسے شیر و نبات کہاں ہیں کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں کہاں ہیں جو الفت سے سرشار ہیں جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں کہاں ہیں جو وہ بخل سے دور ہیں محبت سے نانک کی معمور ہیں کہاں ہیں جو اس رہ میں پُر جوش ہیں گرو کے تعشق میں مدہوش ہیں کہاں ہیں وہ نانک کے عاشق کہاں کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں ست بچن