سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 550

سَت بچن — Page 170

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۰ تمر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں اٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف ذرہ کھینچو تصویر چولے کی صاف کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا فتا سب کا انجام ہے جز خدا سولو عکس جلدی کہ اب ہے ہر اس مگر اُس کی تصویر رہ جائے پاس یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے یہی رہنما اور یہی پیر ہے یہ انگد نے خود لکھد یا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اس حى و قيوم و غفار نے خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کلام صفا یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم اٹھو یارو اب مت کرو راہ گم نور خدا ہے خدا سے ملا ارے جلد آنکھوں سے اپنے لگا ارے لوگو تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اُس پہ رکھنا نظر زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ کریں حق کی تکذیب سب بید رنگ وہی دیں کے راہوں کی سنتا ہے بات کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات مگر دوسرے سارے ہیں پر عناد پیارا ہے اُن کو غرور اور فساد بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ بھلا بعد چولے کے اے پر غرور وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دور تو ڈرتا ہے لوگوں سے اے بے ہنر خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر یہ تحریر چولہ کی ہے اک زباں سنو وہ زباں سے کرے کیا بیاں که دین خدا دین اسلام ہے جو ہو منکر اُس کا بد انجام ہے محمد وہ نبیوں کا سردار ہے کہ جس کا عدو مثل مردار ہے تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا ذرہ دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا ست بیچن