سَت بچن — Page 169
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶۹ جو اس کیلئے کھوتے ہیں پاتے ہیں جو مرتے ہیں وہ زندہ ہو جاتے ہیں وہی وحدہ لا شریک اور عزیز نہیں اُس کی مانند کوئی بھی چیز اگر جاں کروں اُس کی رہ میں فدا تو پھر بھی نہ ہو شکر اُس کا ادا میں چولے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں کہ ہے یہ پیارا مجھے۔ جیسے جاں ذرا جنم ساکھی کو پڑھ اے جواں کہ انگر نے لکھا ہے اس میں عیاں که قدرت کے ہاتھوں کے تھے وہ رقم خدا ہی نے لکھا بہ فضل و کرم کہ وہ کیا ہے یہی ہے کہ اللہ ہے ایک محمد نبی اُس کا پاک اور نیک بغیر اس کے دل کی صفائی نہیں بجز اس کے غم سے رہائی نہیں یہ معیار ہے دیں کی تحقیق کا کھلا فرق دجال و صدیق کا ذرہ سوچو یارو گر انصاف ہے یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے یہ ٹانک سے کرنے لگے جب جُدا رہے زور کر کر کے بے مدعا کہا دور ہو جاؤ تم ہار کے یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے بشر سے نہیں تا اُتارے بشر خدا کا کلام اس پہ ہے جلوہ گر دعا کی تھی اُس نے کہ اے کردگار بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار یہ چولہ تھا اُس کی دعا کا اثر یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سر بسر یہیں چھوڑ کر وہ ولی مر گیا نصیحت تھی مقصود ادا کر گیا اُسے مرده کہنا خطا ہے خطا که زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا ذرہ دیکھ کر اُس کو آنسو بہا کہاں ہے محبت کہاں وفا ہے پیاروں کا چولا ہوا کیوں بُرا وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں لگاتا ہے آنکھوں سے ہوکر فدا یہی دیں ہے دلدادگاں کا سدا که دلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں ست بچن