سَت بچن — Page 168
روحانی خزائن جلد ۱۰ اسی اکیلا ۱۶۸ سے تو نانک ہوا کامیاب کہ دل سے تھا قربان عالی جناب بتایا گیا اُس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں یقیں ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور نہ کر وید کا پاس اے پر غرور دیا اُس کو کرتار نے وہ گیان کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشان وہ بھاگا ہنودوں کو چھوڑ چلا مگہ کو ہند سے منہ کو موڑ گیا خانہ کعبہ کا کرنے طواف مسلماں بنا پاک دل بے خلاف لیا اُس کو فضل خدا نے اُٹھا ملی دونوں عالم میں عزت کی جا اگر تو بھی چھوڑے یہ ملک ہوا تجھے بھی یہ رتبہ کرے وہ عطا تو رکھتا نہیں ایک دم بھی روا جو بیوی سے اور بچوں سے ہو جدا مگر وہ تو پھرتا تھا دیوانہ وار نہ جی کو تھا چین اور نہ دل کو قرار ہر اک کہتا تھا دیکھ کر اک نظر کہ ہے اُس کی آنکھوں میں کچھ جلوہ گر محبت کی تھی سینہ میں اک خلش لئے پھرتی تھی اُس کو دل کی تپش کبھی شرق میں اور کبھی غرب میں رہا گھومتا قلق اور کرب میں پرندے بھی آرام کرلیتے ہیں مجانیں بھی یہ کام کر لیتے ہیں مگر وہ تو اک دم نہ کرتا قرار ادا کر دیا عشق کا کاروبار کسی نے یہ پوچھی تھی عاشق سے بات وہ نسخہ بتا جس سے جاگے تو رات نے کہا نیند کی ہے دوا سوز و درد کہاں نیند جب غم کرے چہرہ زرد وہ آنکھیں نہیں جو کہ گریاں نہیں وہ خود دل نہیں جو کہ بریاں نہیں تو انکار سے وقت کھوتا ہے کیا تجھے کیا خبر عشق ہوتا ہے کیا مجھے پوچھو اور میرے دل سے یہ راز مگر کون پوچھے بجز عشق باز جو برباد ہونا کرے اختیار خدا کے لئے ہے وہی بختیار ست بچن