سَت بچن — Page 126
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۶ ست بچن (۱۴) اور ناپاکی کی راہوں کو چھوڑ دے لیکن دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کیلئے پہلے کچی پاکیزگی کا حاصل کر لینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا از بس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے لَا يَمْشُهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی خدا کی پاک کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل ہیں اور پاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہر گز حاصل نہیں ہو سکتے پس اگر علوم سے یہی فریب اور تزویر اور انسانی منصو بہ بازیاں اور بخل اور باطل پرستی مراد ہے تو ہم بھی دیا نند صاحب سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سب علوم انہیں کو نصیب ہوئے اور باوا صاحب کو حاصل نہ تھے اور اگر علوم سے وہ علوم مراد ہیں جو تقوی اور ریاضت اور جوگ اور پاک دلی سے حاصل ہوتے ہیں اور پر ہیز گار انسانوں پر ہی کھلتے ہیں تو اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ باوا صاحب اُن علوم کی روشنی سے منور کئے گئے تھے مگر دیا نندان پاک معارف سے بالکل بے خبر تھا اور بے خبر ہی مر گیا۔ قولہ۔ وید آدی شاستر اور سنسکرت کچھ بھی نہیں جانتے تھے جو جانتے ہوتے تو ابر بھے شہد کو نر بھو کیوں لکھتے ۔ اقول یہ صرف تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے ایک بد گمانی ہے اگر یہ بات سچی ہوتی تو یہ الزام دینا اُن پنڈتوں کا حق تھا جو باوا صاحب کے زمانہ میں موجود تھے ہم نے تو سنا ہے کہ باوا صاحب جس پنڈت سے بحث کرتے تھے اس کو لا جواب اور ساکت کر دیتے تھے باوا صاحب کے گرنتھ پر غور کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ویدوں کے اُن اصولوں سے بادا صاحب نے صاف انکار کر دیا ہے جن کو سچائی کے مطابق نہیں پایا مثلاً ویدوں کے رو سے تمام ارواح اور ذرات غیر مخلوق اور انادی ہیں لیکن باوا صاحب کے نزدیک تمام ذرات اور ارواح مخلوق ہیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔ اول اللہ نور پا یا قدرت کے سب بندے ایک نور تے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے یعنی خدا تعالیٰ نے ایک نور پیدا کر کے اُس نور سے تمام کائنات کو پیدا کیا پس پیدائش کی رو سے تمام ارواح نوری ہیں یعنی نیک و بد کا اعمال سے فرق پیدا ہوتا ہے ورنہ باعتبار خلقت ظلمت ل الواقعة: ٨٠