سَت بچن — Page 123
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۳ ست بچن چمکتے ہوئے مشاہدہ بھی کئے اور در حقیقت یہ سب اسلام کے حقیقی اور روحانی حسن کا نتیجہ تھا کہ جس کی زبر دست کششوں نے باوا صاحب جیسے صاف باطن رشی کو اس پاک دین کی طرف جھکا دیا برخلاف اس کے جب باوا صاحب نے ویدوں کی تعلیم اور اُن کے پیروں پر نظر ڈالی تو وہاں بالکل اس پاک تعلیم کے برخلاف پایا وہ ویدوں سے کوئی برکت حاصل کرنے سے بکلی نومید ہو گئے اور صاف طور پر انہوں نے بار بار گواہی دی کہ وید روحانی برکتوں سے خالی ہیں چنانچہ ان گواہوں میں سے ایک یہ شعر بھی ہے جس پر دیا نند نے بہت ہی سیا پا کیا اور ناحق ایسے بزرگ کو گالیاں دی ہیں جس کی نظیر اس کے بزرگوں میں ایک بھی نہیں اور وہ شعر جس کے سننے سے دیا نند جل گیا یہ ہے۔ وید پڑھت بر ہما مرے چاروں و ید کہانی“ سادھ کی مہما وید نہ جانی“ یعنی برہما بھی دیدوں کو پڑھ کر مر گیا اور حیات جاودانی حاصل نہ کی چاروں وید سراسر کہانی اور محض یا وہ گوئی ہے جن میں کچھ بھی وڈیا نہیں اور وہ اُسنت اور مہما پر میشر کی جو عارف بیان کیا کرتے ہیں اور وہ خوبیاں ایشر کی جو سچوں کو معلوم ہوتی ہیں ویدوں کو اُن کی کچھ بھی خبر نہیں اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایسے کلمات باوا صاحب کیوں منہ پر لائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ باوا صاحب نے وید کو اُس کی واقعی رنگت میں دیکھ لیا تھا اور انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ویدوں میں بجز آفتاب پرستی اور عناصر پرستی اور ناپاک رسموں کے اور کچھ بھی نہیں اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو کچھ اس ملک میں اس قسم کے شرک پائے جاتے ہیں ان تمام گندی نالیوں کا اصل مبدا وید ہی ہے۔ اور وہ حق گوئی کی راہ میں ایسے دلیر تھے کہ سچ کہنے کے وقت کسی سے نہیں ڈرتے تھے اس لئے ایسے شعر اُن کے منہ سے نکل گئے اور بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ اُن کو دیا نند کی نسبت زیادہ اور وسیع تجر بہ ویدوں کے بارے میں حاصل تھا اور سچے گیان سے اُن کا دل بھر گیا تھا کیونکہ دینی امور میں سچا اور پاک تجربہ اُسی کو حاصل ہوتا ہے جو سچے دل سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتا ہے اور ہر یک پکش پات کا پلید چولہ اپنے پر سے اتار کر ایک پاک چولہ