سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 550

سَت بچن — Page 117

روحانی خزائن جلد ۱۰ 112 ست بچین ول محض بناوٹی رسموں اور خود تراشیدہ ریتوں پر راضی نہیں ہوتا تھا اور اُس مصفی پانی کے وہ خواہشمند تھے کہ جو حقیقت کے چشمہ سے بہتا اور روحانیت کے رنگ سے رنگین ہوتا ہے اس لئے کبھی وہ اُن بیراگیوں اور جو گیوں اور سنیاسیوں پر راضی نہ ہوئے جو محض رسم پرستی اور ایک باطل قانون کی پیروی سے بیہودہ تخیلات میں دماغ سوزی کر کے اپنی اوقات خراب کیا کرتے تھے۔ با و اصاحب بہت زور لگاتے تھے کہ ہندوؤں میں کوئی روحانی حرکت پیدا ہو اور وہ بیہودہ رسموں اور باطل اعتقادوں سے دستکش ہو جائیں اور اسی لئے وہ ہمیشہ برہمنوں کے منہ سے سخت شست باتیں سنتے اور برداشت کرتے تھے مگر افسوس کہ اُس سخت دل قوم نے ایک ذرہ ہی حرکت بھی نہ کی اور باوا صاحب ہندوؤں کی رفاقت سے اس قدر نا امید ہو گئے کہ اُن کو اپنے معمولی سفروں کے لئے بھی دو ایسے ہندو خادم نہ مل سکے کہ اُن کے خیالات کے موافق ہوتی ۔ پس یہ مقام بھی سوچنے کے لائق ہے کہ کیوں ہندوؤں نے باوا نانک صاحب سے اور باوانا نک صاحب نے ہندوؤں سے اُنس نہ کیا اور تمام عمر مسلمانوں سے ہی مانوس رہے اور اسلامی ملکوں کی طرف ہی سفر کرتے رہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ باوا صاحب ہندوؤں سے قطع تعلق کر چکے تھے کیا ہندوؤں میں اس کی کوئی نظیر مل سکتی ہے کہ کوئی شخص ہندو ہو کر اپنے تمام تعلقات مسلمانوں سے قائم کر لے۔ یہ کہنا بھی دشنام دہی سے کچھ کم نہیں کہ باوا نا تک صاحب نے اسلامی سلطنت کا عروج دیکھ کر مسلمانوں کے ساتھ مداہنہ کے طور پر میل ملاپ کر لیا تھا کیونکہ مداہنہ ایک نفاق کی قسم ہے اور نفاق نیک انسانوں کا کام نہیں مگر باوا صاحب کی یک رنگی ایسے دلوں پر واضح ہے جس سے ایک فرد بھی انکار نہیں کر سکتا۔ باوا صاحب ایک سیدھے سادے اور صاف دل آدمی تھے اور ایک سچے مسلمان کی طرح اُن کے عقائد تھے وید کی تعلیم کی طرح اُن کا یہ مذہب نہ تھا کہ تمام روحیں اور اجسام خود بخود چلی آتی ہیں بلکہ انہوں نے اس عقیدہ کا بہت زور سے رد کیا ہے حمد نوٹ ایک بالا بظاہر ہندو خاندان میں سے تھا مگر در حقیقت وہ باو اصاحب کی برکت صحبت سے مسلمان ہو چکا تھا۔ منہ