سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 550

سَت بچن — Page 116

روحانی خزائن جلد ۱۰ 117 ست بچن فقر اور زہد کے شادی بھی کی تالوگوں پر ثابت کریں کہ وید کی تعلیم کا یہ مسئلہ ٹھیک نہیں کہ اعلیٰ مرتبہ کا انسان وہی ہے جو برہم چرج یعنی رہبانیت اختیار کرے ۔ باوا صاحب نیوگ کے مسئلہ کے بھی سخت مخالف تھے اور وہ ایسے انسانوں کو جو اپنے جیتے جی اپنی منکوحہ پاک دامن کو عین نکاح کی حالت میں اولاد کے لئے یا شہوت فرو کرانے کیلئے دوسروں سے ہم بستر کراویں سخت بے حیا اور دیوث اور نا پاک طبع سمجھتے تھے چنانچہ اُن کے پر برکت اشعار ان باتوں پر شہادت دے رہے ہیں جن کو ہم انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے رسالہ میں مفصل تحریر کریں گے۔ اور اس بارے میں تمام عمل اُن کا اسلامی تعلیم کے موافق ہے اور یہ دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ وہ وید کی تعلیموں سے سخت بیزار تھے اور اسی وجہ سے وہ برہمنوں کے ساتھ ہمیشہ مباحثوں اور مناقشوں میں مصروف رہتے تھے اور کچھ دیا نند ہی نے ان کی نسبت بد زبانی نہیں کی بلکہ اُس زمانہ میں بھی اکثر نالائق پنڈت اُن کے دشمن ہو گئے تھے ۔ اور اگر اُس زمانہ میں ایک گروہ کثیر با وا صاحب کے ساتھ بھی ہم خیال ہو جاتا تو کچھ شک نہیں کہ اُن نزاعوں کا ایک بڑے کشت و خون تک انجام ہوتا اور گو بادا صاحب نہایت شدت کے ساتھ ایسے مباحثوں میں مصروف تھے اور دید کی رسموں ہوم وغیرہ کو نہایت ناچیز خیال کرتے تھے مگر تا ہم چونکہ وہ اکیلے تھے لہذا شور وشر کے وقت جاہلوں سے کنارہ کرتے تھے۔ اور یہ ا مرحق اور واقعی ہے کہ اُن کا دل اس الہی محبت سے رنگین ہو گیا تھا جو محض فضل سے ملتی ہے نہ اپنے کسب سے اُن کو وہ تمام باتیں بڑی معلوم ہوتی تھیں جو حق اور حقیقت کے برخلاف ہوں۔ اُن کا ا حاشیہ وید کی خاص تعلیموں میں سے ایک نیوگ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی ہندو کے گھر میں اولاد نہ ہو اور کسی وجہ سے مرد نا قابل اولا د ہو مثلاً اُس کی منی پتلی ہو یا منی میں کیڑے نہ ہوں یا وہ کیڑے کمزور ہوں یا انزال ہی نہ ہوتا ہو یا کسی اور طبی وجہ سے مرد عقیمہ کی طرح ہو یا پیجڑہ ہو یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تو ان سب صورتوں میں وید کی یہ تعلیم ہے کہ مرد اولاد کی خواہش سے اپنی عورت کو دوسرے سے ہمبستر کراوے اور اگر کسی جگہ مردنو کر ہو اور تین برس تک گھر میں نہ آوے گو خرچ بھیجتا ہو اور خط بھی بھیجتا ہو تو اس صورت میں بھی اگر عورت کو شہوت غلبہ کرے تو کچھ ضرور نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے پاس جاوے بلکہ اپنے اختیار سے کسی دوسرے سے ہمبستر ہو جاوے آریہ دھرم میں اس کا سب ثبوت موجود ہے۔ منہ