سناتن دھرم — Page 468
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۶ سناتن دھرم غزل از مؤلف اے آریہ سماج پھنسومت عذاب میں کیوں مبتلا ہو یارو خیال خراب میں اے قوم آریہ ترے دل کو یہ کیا ہوا تو جاگتی ہے یاتری باتیں ہیں خواب میں کیا وہ خدا جو ہے تری جان کا خدا نہیں ایماں کی بونہیں ترے ایسے جواب میں گر عاشقوں کی روح نہیں اس کے ہاتھ سے پھر غیر کے لئے ہیں وہ کیوں اضطراب میں گر وہ الگ ہے ایسا کہ چھو بھی نہیں گیا پھر کس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں جس سوز میں ہیں اس کے لئے عاشقوں کے دل اتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں جامِ وصال دیتا ہے اس کو جو مر چکا کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ و شاب میں ملتا ہے وہ اُسی کو جو وہ خاک میں ملا ظاہر کی قیل و قال بھلا کس حساب میں ہوتا ہے وہ اُسی کا جو اُس کا ہی ہو گیا ہے اُس کی گود میں جو گرا اُس جناب میں پھولوں کو جا کے دیکھو اسی سے وہ آب ہے چمکے اسی کا نور مہ و آفتابے میں خوبوں کے حسن میں بھی اُسی کا وہ نور ہے کیا چیز حسن ہے وہی چمکا حجاب میں اس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تار زلف کا ہجراں سے اس کے رہتی ہے وہ پیچ و تاب میں ہر چشم مست دیکھو اُسی کو دکھاتی ہے ہر دل اُسی کے عشق سے ہے التہاب میں جن مورکھوں کو کاموں پر اس کے یقیں نہیں پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں قدرت سے اس قدیر کے انکار کرتے ہیں بکتے ہیں جیسے غرق کوئی ہو شراب میں دل میں نہیں کہ دیکھیں وہ اس پاک ذات کو ڈرتے ہیں قوم سے کہ نہ پکڑیں عتاب میں ہم کو تو اے عزیز دکھا اپنا وہ جمال کب تک وہ مونہہ رہے گا حجاب و نقاب میں الله نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ خدا ہے نور زمین اور آسمان کا (آیت قرآن شریف)۔ النور : ٣٦