سبز اشتہار — Page 483
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۹ سبز اشتہار ہوتی پھر کافر اور فاسق کو ان سے کیا نسبت ہو۔ ان کی یہ کاملیت اُن کی صحبت میں رہنے سے طالب حق پر کھلتی ہے اسی غرض سے میں نے اتمام حجت کے لئے مختلف فرقوں کے سرگروہوں کی طرف اشتہارات بھیجے تھے اور خط لکھے تھے کہ وہ میرے اس دعوی کی آزمائش کریں اگر ان کو سچائی کی طلب ہوتی تو وہ صدق قدم سے حاضر ہوتے سواُن میں سے کوئی ایک بھی بصدق قدم حاضر نہ ہوا بلکہ جب کوئی پیشگوئی ظہور میں آتی رہی اُس پر خاک ڈالنے کے لئے کوشش کرتے رہے اب اگر ہمارے علماء کو اس حقیقت کے قبول کرنے اور ماننے میں کچھ تامل ہے تو غیروں کے بلانے کی کیا ضرورت پہلے یہی ہمارے احباب جن میں سے بعض فاضل اور عالم بھی ہیں۔ آزمائش کر لیں اور صدق اور صبر سے کچھ مدت میری صحبت میں رہ کر حقیقت حال سے واقف ہو جائیں پھر اگر یہ دعویٰ اس عاجز کا راستی سے معرا نکلے تو انہیں کے ہاتھ پر میں تو بہ کروں گا ورنہ امید رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اُن کے دلوں پر تو بہ اور رجوع کا دروازہ کھول دے گا اور اگر وہ میری اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد میرے دعاوی کی آزمائش کر کے اپنی رائے کو به پایۂ صداقت پہنچا دیں تو اُن کی ناصحانہ تحریروں کے کچھ معنے ہوں گے اس وقت تک تو اس کے کچھ بھی معنے نہیں بلکہ اُن کی محجوبانہ حالت قابل رحم ہے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ آج کل کے عقلی خیالات کے پر زور بخارات نے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ انہیں خیالات پر زور دے رہے ہیں اور تکمیل دین وایمان کے لئے انہیں کو کافی وافی خیال کرتے ہیں اور نا جائز اور نا گوار پیرائیوں میں روحانی برکات کی تحقیر کر رہے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تحقیر تکلف سے نہیں کرتے بلکہ فی الواقع اُن کے دلوں میں ایسا ہی جم گیا ہے اور اُن کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے کیونکہ اُن کے اندر حقانی روشنی کی چمک نہایت ہی کم اور خشک لفاظی بہت سی بھری ہوئی ہے اور اپنی رائے کو اس قدر صائب خیال کرتے اور اس کی تائید میں زور دیتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو روشنی حاصل کرنوں والوں کو بھی اُس تاریکی کی طرف کھینچ لاویں۔ ان علماء کو اسلام کی فتح صوری کی طرف تو ضرور خیال سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کرنے “ہونا چاہیے۔(ناشر)