سبز اشتہار — Page 470
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۶ سبز اشتہار ندیده موزه از پاکشیدہ پر عمل کیا گیا اور یادر ہے کہ ہم نے یہ چند سطریں جو عام مسلمانوں کی نسبت لکھی ہیں محض سچی ہمدردی کے تقاضا سے تحریر کی گئی ہیں تا وہ اپنے بے بنیاد وساوس سے باز آجائیں اور ایسار دی اور فاسد اعتقاد دل میں پیدا نہ کر لیں جس کا کوئی اصل صحیح نہیں ہے بشیر احمد کی وفات پر انہیں وساوس اور اوہام میں پڑنا انہیں کی بے سمجھی و نادانی ظاہر کرنا ہے ورنہ کوئی محل آویزش و نکتہ چینی نہیں ہے ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ہم نے کوئی اشتہار نہیں دیا جس میں ہم نے قطع اور یقین ظاہر کیا ہو کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے اور گو ہم اجتہادی طور پر اس کی ظاہری علامات سے کسی قدر اس خیال کی طرف جھک بھی گئے تھے مگر اسی وجہ سے اس خیال کی کھلے کھلے طور پر بذریعہ اشتہارات اشاعت نہیں کی گئی تھی کہ ہنوز یہ امر اجتہادی ہے اگر یہ اجتہاد صحیح نہ ہوا تو عوام الناس جو دقائق و معارف علم الہی سے محض بے خبر ہیں وہ دھوکا میں پڑ جائیں گے۔ مگر نہایت افسوس ہے کہ پھر بھی عوام کا لانعام دھوکا کھانے سے باز نہیں آئے اور اپنی طرف سے حاشیے چڑھالئے انہیں اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں کہ ان کے اعتراضات کی بنا صرف یہ وہم ہے کہ کیوں اجتہادی غلطی وقوع میں آئی ۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ اول تو کوئی ایسی اجتہادی غلطی ہم سے ظہور میں نہیں آئی جس پر ہم نے قطع اور یقین اور بھروسہ کر کے عام طور پر اس کو شائع کیا ہو پھر بطور تنزل ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کسی نبی یا ولی سے کسی پیش گوئی کی تشخیص و تعیین میں کوئی غلطی وقوع میں آجائے تو کیا ایسی غلطی اس کے مرتبہ نبوت یا ولایت کو کچھ کم کر سکتی ہے یا گھٹا سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ یہ سب خیالات نادانی و نا واقفیت کی وجہ سے بصورت اعتراض پیدا ہوتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں جہالت کا انتشار ہے اور علوم دینیہ سے سخت درجہ کی لوگوں کو لا پروائی ہے اس وجہ سے سیدھی بات بھی الٹی دکھائی دیتی ہے ورنہ یہ مسئلہ بالا تفاق مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ ہر یک نبی اور ولی سے اپنے ان مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص و تعیین میں کہ جہاں