سبز اشتہار — Page 469
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۵ سبز اشتہار کفار کے بچوں کی نسبت کہ جو خورد سالی میں مرجائیں جو کچھ تعلیم اسلام ہے وہ بھی در حقیقت اسی قاعدہ کی رو سے ہے کہ بوجہ اس کے کہ الْوَلَدُ سِر لا بید ان کی استعدادات نا قصہ ہیں غرض بلحاظ صفائی استعداد اور نورانیت اصل جو ہر و مناسبت تامہ دینے کے پسر متوفی کے الہام میں وہ نام رکھے گئے تھے جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔ اب اگر کوئی تحکم کی راہ سے بھینچ تان کر اُن ناموں کو عمر دراز ہونے کے ساتھ وابستہ کرنا چاہے تو یہ اُس کی سراسر شرارت ہوگی جس کی نسبت کبھی ہم نے کوئی یقینی اور قطعی رائے ظاہر نہیں کیا۔ ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ ان فضائل ذاتیہ کے تصور کرنے سے شک کیا جاتا تھا که شاید یہی لڑکا مصلح موعود ہو گا مگر وہ شکی تقریر ہے جو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع نہیں کی گئی ہندوؤں کی حالت پر سخت تعجب ہے کہ وہ با وصف اس کے کہ اپنے نجومیوں اور جوتشیوں کے منہ سے ہزار ہا ایسی باتیں سنتے ہیں کہ بالآخر وہ سراسر پوچ اور لغو اور جھوٹ نکلتی ہیں اور پھر اُن پر اعتقاد رکھنے سے باز نہیں آتے اور عذر پیش کر دیتے ہیں کہ حساب میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ جوتش کے سچا ہونے میں کچھ کلام نہیں۔ پھر با وصف ایسے اعتقادات سخیفہ اور ردیہ کے الہامی پیشگوئیوں پر بغیر کسی صریح اور صاف غلطی پکڑنے کے متعصبانہ حملہ کرتے ہیں پھر ہندو لوگ اگر ایسی بے اصل باتیں منہ پر لاویں تو کچھ مضائقہ بھی نہیں کیونکہ وہ دشمن دین ہیں اور اسلام کے مقابل پر ہمیشہ سے اُن کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے یعنی جھوٹ و افترا لیکن نہایت تعجب میں ڈالنے والا واقعہ مسلمانوں کی حالت ہے کہ باوجود دعوی دینداری و پرہیز گاری اور باوجود عقائد اسلامیہ کے ایسے ہذیانات زبان پر لاتے ہیں اگر ہمارے ایسے اشتہارات ان کی نظر سے گزرے ہوتے جن میں ہم نے قیاسی طور پر پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہوتا ۔ تب بھی ان کی ایمانی سمجھ اور عرفانی واقفیت کا مقتضا یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ ایک اجتہادی غلطی ہے کہ جو کبھی کبھی علماء ظاہر و باطن دونوں کو پیش آ جاتی ہے یہاں تک کہ اولوالعزم رسول بھی اُس سے باہر نہیں ہیں مگر اس جگہ تو کوئی ایسا اشتہار بھی شائع نہیں ہوا تھا محض دریا