سبز اشتہار — Page 467
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۳ سبز اشتهار وساوس کے دریا میں ڈوبے جاتے ہیں کیا کوئی اشتہار ہمارا اُن کے پاس ہے کہ جو اُن کو ﴿۷﴾ یقین دلاتا ہے کہ ہم اس لڑکے کی نسبت الہامی طور پر قطع کر چکے تھے کہ یہی عمر پانے والا اور مصلح موعود ہے اگر کوئی ایسا اشتہار ہے تو کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔ ہم اُن کو باور دلاتے ہیں کہ ایسا اشتہار ہم نے کوئی شائع نہیں کیا ہاں خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بکلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا نام بارانِ رحمت اور مبشر اور بشیر اور ید اللہ بجلال و جمال وغیرہ اسماء بھی ہیں ۔ سو جو کچھ خدا تعالیٰ حاشیہ نہیں ہوں گے اور نہ حواری پیالہ اجل پئیں گے کہ جو حضرت مسیح پھر اپنی جلالت اور عظمت کے ے ساتھ دنیا میں تشریف لے آئینگے اور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا خیال اور رائے اُسی پیرایہ کی طرف زیادہ جھکا ہوا تھا کہ جو انہوں نے حواریوں کے ذہن نشین کیا جو اصل میں صحیح نہیں تھا یعنی کسی قدر اس میں اجتہادی غلطی تھی اور عجیب تر یہ کہ بائبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی اور وہ غلط نکلی یعنی بجائے فتح کے شکست ہوئی۔ دیکھو سلاطین اول باب ۲۲ آیت ۱۹۔ مگر اس عاجز کی کسی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں الہام نے پیش از وقوع دولڑکوں کا پیدا ہونا ظاہر کیا اور بیان کیا کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت بھی ہونگے دیکھو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء واشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء سو مطابق پہلی پیشگوئی کے ایک لڑکا پیدا ہو گیا اور فوت بھی ہو گیا اور دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے ۔ وہ اگر چہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا۔ زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے پوشیدہ ہے۔ اور انجام کا راس کی آنکھوں سے چھپا ہوا ہے۔ منہ