سبز اشتہار — Page 466
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۲ سبز اشتہار حاشیه غلطیوں سے حیرت وسرگردانی میں نہیں پڑے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ غلطیاں نفسِ الہامات و مکاشفات میں نہیں ہیں بلکہ تاویل کرنے میں غلطی وقوع میں آ گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں اجتہادی غلطی علماء ظاہر و باطن کی اُن کی کسرشان کا موجب نہیں ہو سکتی اور ہم نے کوئی ایسی اجتہادی غلطی بھی نہیں کی جس کو ہم قطعی ویقینی طور پر کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کرتے تو کیوں بشیر احمد کی وفات پر ہمارے کو نہ اندیش مخالفوں نے اس قدر زہر اگلا ہے کیا اُن کے پاس ان تحریرات کا کوئی کافی و قانونی ثبوت بھی ہے یا نا حق بار بار اپنے نفس امارہ کے جذبات لوگوں پر ظاہر کر رہے ہیں اور اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی حالت پر بھی تعجب ہے کہ وہ کس خیال پر نہیں ملی تھی لہذا اُن کے خیال کا میلان اجتہادی طور پر کسی قدر اس طرف ہو گیا تھا کہ فرعون بے عون کا آیات بینات سے جلد تر قصہ پاک کیا جائے گا۔ سوخدا تعالیٰ نے جیسا کہ قدیم سے تمام انبیاء سے اس کی سنت جاری ہے پہلے ایام میں حضرت موسیٰ کو ابتلا میں ڈالنے کی غرض سے اور رعب استغنا اُن پر وارد کرنے کے ارادہ سے بعض درمیانی مکارہ اُن سے مخفی رکھے کیونکہ اگر تمام آنے والی باتیں اور وارد ہونے والی صعوبتیں اور شدتیں پہلے ہی ان کو کھول کر بتلائی جائیں تو ان کا دل بکلی قومی اور طمانیت یاب ہو جاتا ۔ پس اس صورت میں اس ابتلاء کی ہیبت ان کے دل پر سے اٹھ جاتی جس کا وارد کرنا حضرت کلیم اللہ پر اور ان کے پیروؤں پر بمراد ترقی درجات و ثواب آخرت ارادہ الہی میں قرار پا چکا تھا۔ ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے جو جو اُمیدیں اور بشارتیں اپنے حواریوں کو اس دنیوی زندگی اور کامیابی اور خوشحالی کے متعلق انجیل میں دی ہیں وہ بھی بظاہر نہایت سہل اور آسان طریقوں سے اور جلد تر حاصل ہونے والی معلوم دیتی تھیں ۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کے مبشر نہ الفاظ سے جوابتدا میں اُنہوں نے بیان کئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اُسی زمانہ میں ایک زبردست بادشاہی ان کی قائم ہونے والی ہے۔ اسی حکمرانی کے خیال پر حواریوں نے ہتھیار بھی خرید لئے تھے کہ حکومت کے وقت کام آدینگے ۔ ایسا ہی حضرت مسیح کا دوبارہ اترنا بھی جناب ممدوح نے خود اپنی زبان سے ایسے الفاظ سے بیان فرمایا تھا جس سے خود حواری بھی یہی سمجھتے تھے کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ فوت