سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 548

سبز اشتہار — Page 463

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۴۹ سبز اشتہار اُن تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا تا جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا ۔ نہایت افسوس (۳) ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں درونگوئی سے منع نہیں کرتے جو بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیا گنا اور بیچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے۔ پس عجیب بات ہے کہ یہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیا جاتا ہے مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام میں نہیں آتا ۔ افسوس ہزار افسوس۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ۱۸ اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷/ اگست ۱۸۸۷ء مذکورہ بالا اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اور کن صفات کا ہے۔ بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کے رو سے غیر مفصل اور غیر مصرح ہے ہاں یہ تعریفیں جو او پر گذر چکی ہیں ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص و تعیین کے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن اُس اشتہار میں یہ تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ۷ / اگست ۱۸۸۷ء کو لڑ کا پیدا ہو گا وہی مصداق ان تعریفوں کا ہے بلکہ اس اشتہار میں اُس لڑکے کے پیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہوگا پس ایسا خیال کرنا کہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا سراسر حاشیه عبارت اشتہار ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء یہ ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا جو اب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں ۹ برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔ دیکھو اشتہار ۱/۸اپریل ۱۸۸۶ء مطبع چشمہ فیض قادری بٹالہ ۔ عبارت اشتہارے راگست ۱۸۸۷ ء یہ ہے۔ ”اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۱۸اپریل ۱۸۸۶ء میں پیشگوئی کی تھی وہ ارذیقعد مطابق سے راگست میں پیدا ہو گیا ۔ دیکھو اشتہاری راگست ۱۸۸۷، مطبوعہ وکٹوریہ پریس لاہور ۔ پس کیا ان تینوں اشتہارات میں جو لیکھر ام پیشاوری نے جوش میں آ کر پیش کی ہیں یہ تک بھی اس بات کی پائی جاتی ہے کہ ہم نے کبھی پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہے۔ فتفكروا فتدبروا۔