روئداد جلسۂ دعا — Page 595
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۹۵ رونداد جلسه دعا حقوق گورنمنٹ کو روز روشن کی طرح کھول کر دیکھا دیا اور اپنی جماعت کے دلوں میں اس (۳) محسن گورنمنٹ کے احسانات کو ایسے مؤثر اور گونا گوں پیرایوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا جس سے اس سلطنت کے ساتھ منافقانہ رنگ کا دھبہ اس پاک جماعت کے دلوں سے ایسا یک لخت اُڑ گیا کہ اس کا نام و نشان تک نہ رہا یہ وہی رنگ تھا جو معصب اور جاہل ملاؤں کی صحبت سے بے چارہ سادہ دل اور نادان مسلمانوں کے رگ وریشہ میں چڑھتا جاتا ہے۔ اور وہ اسی طرح صدق دل سے گورنمنٹ برطانیہ کے وفادار اور نمک حلال ہو گئے ہیں جس طرح کسی اسلامی حکومت کے ہونے چاہیے تھے۔ یہ بات خود گورنمنٹ پر بھی مخفی نہیں کہ جناب موصوف کا خاندان ہمیشہ سے اس گورنمنٹ کا وفادار اور جاں نثار رہا ہے اور ہر آڑے وقت پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خدمات بجا لاتا رہا ہے جس سے حکام گورنمنٹ خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب کے خاندان کو پہلے ہی سے اس گورنمنٹ سے تعلقات یگانگت حاصل ہیں گو حضرت موصوف کے بزرگ سپاہ اور سواروں سے مددفرماتے تھے تا ہم یہ اپنے رنگ میں پر سوز دعاؤں کے لشکر سے امداد دینے میں فروگذاشت نہیں کرتے ۔ چنانچہ جب کبھی سرحد افغانستان یا بلوچستان یا برہما میں جنگ اور لڑائی پیش آئی تو یہ دعا کرتے رہے۔ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ کی جو بلی پر بڑی خوشی منائی اور جلسہ منعقد کر کے ان کی طول عمر اور اقبال کی دعا جناب الہی میں کی اور وہ اپنی اس طرز زندگی میں جو محض فقیرانہ زندگی ہے اور ہمیشہ سے گوشہ گزینی اور خلوت نشینی ان کی عادت ہو رہی ہے بجز دعا کے اور کس طرح اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کی مدد کر سکتے ہیں ۔ لہذا اس موقع پر بھی جبکہ سرکار برطانیہ کو ایک ایسی قوم سے جس کو در پردہ اور قومیں مدد دے رہی ہیں جس سے ہماری گورنمنٹ کو ناحق تکلیف پہنچ رہی ہے اس ہمدرد خلائق نے مناسب سمجھا کہ فتح یابی کے لئے دعا کی جائے چنانچہ یکم فروری کو