رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 550

رازِ حقیقت — Page 160

روحانی خزائن جلد ۱۴ 17۔ راز حقیقت نہ تھا کیونکہ وہ مسلمانوں کی اولاد تھا اور اسلام سے بعض اغراض کی وجہ سے مرتد ہوا تھا اسلامی چاشنی رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے اُس کو پورے طور پر عیسائیوں کے عقیدہ سے اتفاق بھی نہیں تھا۔ اور میری نسبت وہ ابتدا سے نیک ظن رکھتا تھا۔ لہذا اس کا اسلامی پیشگوئی سے ڈرنا قرین قیاس تھا۔ پھر جب کہ اُس نے قسم کھا کر اپنی عیسائیت ثابت نہ کی اور نہ نالش کی اور چور کی طرح ڈرتا رہا اور عیسائیوں کی سخت تحریک سے بھی وہ ان کاموں کے لئے آمادہ نہ ہوا تو کیا اس کی یہ حرکات ایسی نہ تھیں کہ اُس سے یہ نتیجہ نکلے کہ وہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے ضرور ڈرتا رہا۔ غافل زندگی کے لوگ تو نجومیوں کی پیشگوئیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں چہ جائیکہ ایسی پیشگوئی جو بڑے شدومد سے کی گئی تھی ۔ جس کے سننے سے اُسی وقت اُس کا رنگ زرد ہو گیا تھا۔ جس کے ساتھ در صورت نہ پورے ہونے کے میں نے اپنے سزا یاب ہونے کا وعدہ کیا تھا پس اس کا رُعب ایسے دلوں پر جو دینی سچائی سے بے بہرہ ہیں کیونکر نہ ہوتا۔ پھر جب کہ یہ بات صرف قیاسی نہ رہی بلکہ خود آتھم نے اپنے خوف اور سراسیمگی اور دہشت زدہ ہونے کی حالت سے جس کو صد ہا لوگوں نے دیکھا اپنی اندرونی بے قراری اور اعتقادی حالت کے تغیر کو ظاہر کر دیا اور پھر بعد میعاد قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے سے اُس تغیر کی حالت کو اور بھی یقین تک پہنچایا اور پھر الہام الہی کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر بھی گیا تو کیا یہ تمام واقعات ایک منصف اور خدا ترس کے دل کو بقیه حاشیه اور اپنے زخم اُن کو دکھلائے ۔ پس اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت زخم موجود تھے جن کے لئے مرہم طیار کرنے کی ضرورت تھی ۔ لہذا یقینا سمجھا جاتا ہے کہ ایسے موقعہ پر وہ مرہم طیار کی گئی تھی ۔ اور انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام چالیس روز اُسی گرد ونواح میں بطور مخفی رہے اور جب مرہم کے استعمال سے بکلی شفا پائی تب آپ نے سیاحت اختیار کی۔ افسوس کہ ایک ڈاکٹر صاحب نے راولپنڈی سے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں اُن کو