رازِ حقیقت — Page 154
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۵۴ راز حقیقت اور تواضع اور صبر اور تقویٰ اختیار کرو ۔ اور خدا تعالیٰ سے چا ہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرما دے۔ بہتر ہے کہ شیخ محمد حسین اور اس کے رفیقوں سے ہرگز ملاقات نہ کرو کہ بسا اوقات ملاقات موجب جنگ و جدل ہو جاتی ہے اور بہتر ہے کہ اس عرصہ میں کچھ بحث مباحثہ بھی نہ کرو کہ بسا اوقات بحث مباحثہ سے تیز زبانیاں پیدا ہوتی ہیں ضرور ہے کہ نیک عملی اور راست بازی اور تقویٰ میں آگے قدم رکھو کہ خدا ان کو جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ضائع نہیں کرتا ۔ دیکھو حضرت موسیٰ نبی علیہ السلام جو سب سے زیادہ اپنے زمانہ میں حلیم اور متقی تھے تقویٰ کی برکت سے فرعون پر کیسے فتح یاب ہوئے ۔ فرعون چاہتا تھا کہ اُن کو ہلاک کرے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں کے آگے خدا تعالیٰ نے فرعون کو مع اس کے تمام لشکر کے ہلاک کیا پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بد بخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ ان کو ہلاک کریں اور نہ صرف ہلاک بلکہ اُن کی پاک روح پر صلیبی موت سے لعنت کا داغ لگا دیں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے یعنی اس کا دل پلید اور ناپاک اور خدا کے قرب سے دور جا پڑتا ہے اور راندہ درگا والی اور شیطان کی مانند ہو جاتا ہے۔ اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے ۔ اور یہ نہایت بد منصوبہ تھا کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت سوچا گیا تھا تا اس سے وہ نالائق قوم یہ نتیجہ نکالے کہ یہ شخص پاک دل اور سچا نبی اور خدا کا پیارا نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ لعنتی ہے جس کا دل پاک نہیں ہے اور جیسا کہ مفہوم لعنت کا ہے وہ خدا سے بجان ودل بیزار اور خدا اُس سے بیزار ہے لیکن خدائے قادر قیوم نے بدنیت یہودیوں کو اس ارادہ سے نا کام اور نا مراد رکھا اور اپنے پاک نبی علیہ السلام کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا بلکہ اس کو ایک سو میں برسی تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہودیوں کو اُس کے ما حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک سو بیس برس کی عمر ہوئی تھی ۔