قادیان کے آریہ اور ہم — Page 461
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵۷ قادیان کے آریہ اور ہم اتے میرے رب رحماں تیرے ہی ہیں یہ احساں مشکل ہو تجھ سے آسماں ہر دم رجا یہی ہے اے میرے یار جانی خود کر تو مہربانی! ورنہ بلائے دنیا اک اژدھا یہی ہے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چھپا پیارے میری دوا یہی ہے کہتے ہیں جوش اُلفت یکساں نہیں ہے رہتا دل پر مرے پیارے ہر دم گھٹا یہی ہے ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دلبر جیتا ہوں اس ہوس سے میری غذا یہی ہے دنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے مشت غبار اپنا تیرے لئے اُڑایا جب سے سنا کہ شرط مہر و وفا یہی ہے دلبر کا درد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا جلایا جام بقا یہی ہے اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اُس نے مجھ کو دیا یہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اُس دلبر ازل نے مجھے کو کہا یہی ہے جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہوگئے ہیں پتھر قدر و قضا یہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے پھر پھر کے در پہ آتے تیغ و تبر دکھاتے ہر سو ہوا یہی ہے دلبر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہشیار ساری دنیا اک باؤلا یہی ہے نہ میں یہ نام اپنے لئے پسند کرتا ہوں اس لئے بعض جگہ میں نے پنجابی الفاظ استعمال کئے ہیں اور ہمیں صرف اردو سے کچھ غرض نہیں اصل مطلب امر حق کو دلوں میں ڈالنا ہے۔ شاعری سے کچھ تعلق نہیں ۔ منه