قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 458

۵۶ روحانی خزائن جلد ۲۰ لد لد قادیان کے آریہ اور ہم دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پہ اترے دل میں اُٹھا یہی ہے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا اُس نے ہے کچھ دکھانا اُس سے رجا یہی ہے اُن سے دو چار ہونا عزت ہے اپنی کھونا اُن سے ملاپ کرنا راہ ریا یہی ہے پس اے مرے پیار و عقبی کومت بسا رو اس دیں کو پاؤ یارو بدر الدجی یہی ہے بقیه حاشیه نا پاک شہوات عورتوں کی جوش ماریں گی بلکہ وہ تو دس قدم اور بھی آگے بڑھیں گی اور جبکہ پردہ کا پیل بھی ٹوٹ گیا تو ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ان نا پاک شہوتوں کا سیلاب کہاں تک خانہ خرابی کرے گا چنانچہ جگن ناتھ اور بنارس اور کئی جگہ میں اس کے نمونے بھی موجود ہیں ۔ کاش! اس قوم میں کوئی سمجھدار پیدا ہو۔ اور ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مکتی حاصل کرنے کے لئے اولاد کی ضرورت کیوں ہے۔ کیا ایسے لوگ جیسے پنڈت دیانند تھا جس نے شادی نہیں کی اور نہ کوئی اولاد ہوئی مکتی سے محروم ہیں؟ اور ایسی مکتی پر تو لعنت بھیجنا چاہیے کہ اپنی عورت کو دوسرے سے ہمبستر کرا کر اور ایسا فعل اس سے کرا کر جو عام دنیا کی نظر میں زنا کی صورت میں ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بجز اس نا پاک فعل کے اور کوئی ذریعہ اُس کی مکتی کا نہیں اور یہ بھی ہم سمجھ نہیں سکتے کہ جو ہزاروں طاقتیں اور قوتیں اور خاصیتیں روحوں اور ذرات اجسام میں ہیں وہ سب قدیم سے خود بخود ہیں۔ پر میشر سے وہ حاصل نہیں ہوئیں۔ پھر ایسا پر میشر کس کام کا ہے اور اس کے وجود کا ثبوت کیا ہے؟ اور کیا وجہ کہ اس کو پر میشر کہا جائے؟ اور کامل اطاعت کا وہ کیونکر مستحق ہے جبکہ اس کی پرورش کامل نہیں اور جن طاقتوں کو اُس نے آپ نہیں بنایا اُن کا علم اس کو کیونکر ہے اور جبکہ وہ ایک روح کے پیدا کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا تو کن معنوں سے اُس کو سرب شکتی مان کہا جاتا ہے جبکہ اُس کی شکتی صرف جوڑنے تک ہی محدود ہے۔ میرا دل تو یہی گواہی دیتا ہے کہ یہ نا پاک تعلیمیں وید میں ہرگز نہیں ہیں۔ پر میشر تو تبھی پر میشر رہ سکتا ہے جبکہ ہر ایک فیض کا وہی مبدء ہو۔ بیدانت والوں نے بھی اگر چہ غلطیاں کیں مگر تھوڑی سی اصلاح سے ان کا مذہب قابل اعتراض نہیں رہتا مگر دیا نند کا مذہب تو سرا سر گندہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دیا نند نے ان جھوٹے فلسفیوں اور منطقیوں کی پیروی کی ہے جن کو وید سے کچھ بھی تعلق نہ تھا بلکہ وید کے در پردہ پکے دشمن تھے۔ اسی وجہ سے اس کے مذہب میں پرمیشر کی وہ تعظیم نہیں جو ہونی چاہیے اور نہ پاک دل جو گیوں کی طرح پر میشر سے ملنے کے لئے مجاہدات کی تعلیم ہے۔ صرف تعصب اور خدا کے پاک نبیوں کو کینہ اور گالیاں دینا ہی شخص یہ شخص بدا بد نصیب اپنے چیلوں کو سکھا گیا ہے بلکہ یوں کہو کہ ایک زہر کا پیالہ پلا گیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارا سب اعتراض دیانند کے فرضی ویدوں پر ہے نہ خدا کی کسی کتاب پر ۔ واللہ اعلم ۔ منہ