قادیان کے آریہ اور ہم — Page 452
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۴۸ قادیان کے آریہ اور ہم جو کریم و رحیم ہے اس موت کے عوض میں دوسرے جہان میں اُن کو نجات کی زندگی بخشتا ہے کیونکہ اس کا کرم اور رحم اس بخل سے پاک ہے جو کسی انسان پر دو موتیں وارد کرے۔ سوانسان تو بہ کی موت سے ہمیشہ کی زندگی کو خریدتا ہے اور ہم اس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے کسی دوسرے کو پھانسی پر چڑھانے کے محتاج نہیں ہیں ہمارے لئے وہ صلیب کافی ہے جو اپنی قربانی دینے کی صلیب ہے۔ یادر ہے کہ تو بہ کا لفظ نہایت لطیف اور روحانی معنی اپنے اندر رکھتا ہے جس کی غیر قوموں کو خبر نہیں یعنی تو بہ کہتے ہیں اس رجوع کو کہ جب انسان تمام نفسانی جذبات کا مقابلہ کر کے اور اپنے پر ایک موت کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ کی طرف چلا آتا ہے۔ سو یہ کچھ مہل بات نہیں ہے اور ایک انسان کو اسی وقت تائب کہا جاتا ہے جبکہ وہ بکلی نفس امارہ کی پیروی سے دست بردار ہو کر اور ہر ایک تلخی اور ہر ایک موت خدا کی راہ میں اپنے لئے گوارا کر کے آستانہ حضرت احدیت پر گر جاتا ہے تب وہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس موت کے عوض میں خدا تعالیٰ اُس کو زندگی بخشے ۔ چونکہ آریہ لوگ صرف بہت سی جونوں کو مدار نجات سمجھ بیٹھے ہیں اس لئے ان کا اس طرف خیال نہیں آتا ہے۔ نہیں جانتے کہ جس طرح میلا کپڑا بھٹی پر چڑھنے سے اور پھر دھوبی کے ہاتھ سے آب شفاف کے کنارہ پر طرح طرح کے صدمات اٹھانے سے آخر کا رسفید ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ تو بہ جس کے معنے میں بیان کر چکا ہوں انسان کو صاف پاک کر دیتی ہے۔ انسان جب خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ میں پڑ کر اپنی تمام ہستی کو جلا دیتا ہے تو وہی محبت کی موت اُس کو ایک نئی زندگی بخشتی ہے۔ کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ محبت بھی ایک آگ ہے اور گناہ بھی ایک آگ ہے۔ پس یہ آگ جو محبت الہی کی آگ ہے گناہ کی آگ کو معدوم کر دیتی ہے۔ یہی نجات کی جڑھ ہے۔ اور نہایت افسوس تو یہ ہے کہ آریہ لوگ اپنے مذہب کی خرابیوں کو نہیں دیکھتے اور اسلام پر بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ کوئی بھی ان کا ایسا اعتراض نہیں جو ان کے مذہب کے کسی فرقہ کے طریق عمل میں وہ داخل نہیں ۔ اب ہم اس رسالہ کو خدا کے نام پر ختم کرتے ہیں۔ الحمد لله اولا و اخرًا هو مولانا نعم المولى و نعم النصير -