قادیان کے آریہ اور ہم — Page 449
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۴۵ قادیان کے آریہ اور ہم سوانح عمری ایسی پاک ہے کہ کسی قسم کا اُن سے گناہ سرزد نہیں ہوا۔ اور کیا وہ آر سید اصولوں کی رو سے تسلی رکھتے ہیں کہ وہ مرتے ہی سکتی پا جائیں گے۔ اور پھر جب مخلوقات پر نظر ڈالی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی تعداد کو دوسری مخلوقات سے وہ نسبت نہیں جو قطرہ کو دریا کی طرف ہوتی ہے کیونکہ علاوہ ان تمام بے شمار جانوروں کے جو خشکی اور تری میں پائے جاتے ہیں ایسے غیر مرئی جانور بھی کرہ ہوا اور پانی میں موجود ہیں جو وہ نظر نہیں آسکتے جیسا کہ تحقیقات سے ثابت ہے کہ ایک قطرہ پانی میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باوجود اس قدر زمانہ اور مدت دراز گزرنے کے پرمیشر نے مکتی دینے میں ایسی ناقابل کا رروائی کی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں کی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پر میشر کی (۲۱) ہرگز مرضی ہی نہیں کہ کوئی شخص مکتی حاصل کر سکے اور یا یوں کہو کہ وہ مکتی دینے پر قادر ہی نہیں۔ اور یہ بات بہت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ اگر قادر ہو تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ دائمی نجات یا مکتی نہ دے سکے اور ایسا ہی با وجود دیالو اور قادر ہونے اس کے کے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیوں وہ ایسا چڑ چڑا مزاج کا ہے کہ ایک ذرا سے گناہ کو بھی بخش نہیں سکتا اور جب تک ایک گناہ کے لئے کروڑہا جونوں میں نہ ڈالے خوش نہیں ہوتا۔ ایسے پر میشر سے کس بہتری کی امید ہوسکتی ہے؟ اور جبکہ ایک شریف طبع انسان اپنے قصورواروں کے قصور ان کی تو بہ اور درخواست معافی پر بخش سکتا ہے اور انسان کی فطرت میں یہ قوت پائی جاتی ہے کہ کسی خطا کار کی پشیمانی اور آہ وزاری پر اس کی خطا کو بخش دیتا ہے تو کیا وہ خدا جس نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ اس صفت سے محروم ہے؟ نعوذ باللہ ہرگز نہیں ہر گز نہیں۔ پس یہ آریوں کی غلطی ہے کہ اس خدا کو جس کو وہ دیا لو بھی کہتے ہیں اور سرب شکتی مان بھی سمجھتے ہیں اس کو اس عظیم الشان صفت سے محروم قرار دیتے ہیں۔ اور یادر ہے کہ انسان جو سراسر ۴۲) کمزوری میں بھرا ہوا ہے بغیر خدا کی صفت مغفرت کے ہر گز نجات نہیں پاسکتا اور اگر خدا میں صفت مغفرت نہیں تو پھر انسان میں کہاں سے پیدا ہوگئی ؟ یادر ہے کہ نجات نہ پانا ایک موت ہے ایسا ہی کچی تو بہ کرنا بھی ایک موت ہے۔ پس موت کا علاج موت ہے۔ کیا وہ خدا جو ہر ایک چیز پر