قادیان کے آریہ اور ہم — Page 448
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۴۴ قادیان کے آریہ اور ہم ملا وامل اس بات کا بھی مجرم ہے کہ اُس نے یہ سب کچھ دیکھ کر پھر مخالفت کر کے اپنے پورے زور اور پوری مخالفت سے ایک اشتہار دیا تھا جس کو دس برس گزر گئے اور لوگوں کو روکا تھا کہ میری طرف رجوع نہ کریں اور نہ کچھ مالی مدد کریں ۔ تب اس کے روکنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے اشتہار کے بعد کئی لاکھ انسان میرے ساتھ شامل ہوئے اور کئی لاکھ روپیہ آیا مگر پھر بھی اُس نے خدا کے ہاتھ کو محسوس نہ کیا۔ بالآخر ہم اس بات کا لکھنا بہت ہی ضروری سمجھتے ہیں کہ جس پر میشر کو پنڈت دیا نند نے آریوں کے سامنے پیش کیا ہے وہ ایک ایسا پر میشر ہے جس کا عدم اور وجود برابر ہے کیونکہ وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اگر ایک شخص اپنی آوارگی اور بدچلنی کے زمانہ سے تائب ہو کر اسی اپنے پہلے جنم میں مکتی کو پانا چاہے تو اُس کو اس کی تو بہ اور پاک تبدیلی کی وجہ سے مکتی عنایت کر سکے بلکہ اُس کے لئے آریہ اصول کی رو سے کسی دوسری جون میں پڑ کر دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے خواہ وہ انسانی جون کو چھوڑ کر کتا بنے یا بند رسو رنگر بنا تو ضرور چاہیے۔ یہ پر میشر ہے جس کو دیا لو اور سرب شکتی مان کہا جاتا ہے۔ اگر انسان نے اپنی ہی کوشش سے سب کچھ کرنا ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر پر میشر کا کس بات میں شکر ادا کیا جائے اور جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے بعض حصہ عمر میں ایسا زمانہ بھی آجاتا ہے کہ وہ کسی حد تک نفسانی جوشوں اور خواہشوں کا تابع ہوتا ہے۔ اور کم سے کم یہ کہ غفلت جو گناہوں کی ماں ہے ضرور کسی قدر اس سے حصہ لیتا ہے اور یہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ کیا جسمانی پہلو کی رو سے اور کیا روحانی پہلو کی رو سے ابتدا میں کمزوری میں پیدا ہوتا ہے اور پھر اگر خدا کا فضل شامل حال ہو تو آہستہ آہستہ پاکیزگی کی طرف ترقی کرتا ہے۔ پس یہ خوب ۴۰ پر میشر ہے جس کو انسان کی فطرت کی بھی خبر نہیں ۔ اگر اسی طرح مکتی پانا ہے تو پھر مکتی کی حقیقت معلوم ۔ ہم اس آزمائش کے لئے نہ صرف ایک آریہ کو مخاطب کرتے ہیں نہ دو کو نہ تین کو بلکہ نہایت یقین اور بصیرت تامہ کی راہ سے کہتے ہیں کہ ہمارے رو برو دو ہزار یا دس ہزار یا بیس ہزار یا مثلاً ایک لاکھ ہی آریہ کھڑے ہو کر قسم کھاویں کہ کیا اُن کی