قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 445

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۴۱ قادیان کے آریہ اور ہم کہا تھا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ انجام کار میں اس مقدمہ میں بری کیا جاؤں گا مگر کرم دین سزا پائے گا۔ یہ اُس وقت کی خبر ہے کہ جب تمام آثار اس کے برخلاف تھے اور حاکم کی رائے ہمارے مخالف تھی۔ چنانچہ آتما رام مجوز مقدمہ نے اپنے فیصلہ کے وقت بڑی سختی سے فیصلہ دیا اور ہم پر سات سو روپیہ جرمانہ کیا۔ اور ناخنوں تک زور لگا کر فیصلہ لکھا۔ اور پھر صاحب ڈویژنل جج کے محکمہ سے جیسا کہ میں نے پیشگوئی کی تھی وہ حکم آتما رام کا منسوخ کیا گیا اور صاحب موصوف نے مجھے کو بڑی عزت کے ساتھ کر می کر کے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ جو الفاظ اپیلانٹ نے یعنی میں نے کرم دین کی نسبت استعمال کئے ہیں یعنی کذاب اور لیم کا لفظ ان الفاظ سے کرم دین کی کچھ بھی ازالہ حیثیت عرفی نہیں ہوئی بلکہ اگر ان الفاظ سے بڑھ کر بھی کوئی اور سخت الفاظ اس کے حق میں استعمال کئے جاتے تب بھی وہ ان الفاظ کا مستحق تھا۔ یہ تو میرے حق میں فیصلہ ہوا مگر کرم دین پر پچاس روپیہ جرمانہ قائم رہا۔ یہ پیشگوئی نہ صرف میں نے لالہ شرمیت کو ﴿۳۶﴾ فشار بتلا ئی تھی بلکہ میں اس پیشگوئی کو مقدمہ کے وجود سے بھی پہلے اپنی کتاب مواہب الرحمن میں جو ایک عربی زبان میں کتاب ہے شائع کر چکا تھا۔ پس کسی کے لئے ممکن نہیں جو کرم دین کا بیان تھا کہ کذاب اس کو کہتے ہیں جو بہت جھوٹ بولنے والا ہو اور ہمیشہ جھوٹ بولتا ہو۔ اور لٹیم اس کو کہتے ہیں جو ولد الزنا ہو اور اس کے خاندان میں ایسا ہی سلسلہ چلا آیا ہو ۔ اور اس پر اُس نے کتا بیں بھی دکھلائیں مگر ڈویژنل جج نے فرمایا کہ اگر ان الفاظ سے سخت تر بھی الفاظ بولے جاتے تب بھی ان سے کرم دین کی کچھ بے عزتی نہیں تھی۔ یعنی اس کی حالت کے لحاظ سے ابھی یہ الفاظ تھوڑے ہیں۔ منہ