قادیان کے آریہ اور ہم — Page 443
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳۹ قادیان کے آریہ اور ہم فیصلہ کی خبر دی تھی اس لئے انہوں نے وہی ظاہر کیا جو ان کو معلوم تھا۔ غرض میں نے واپس آکر یہ سب حال شرمپت کو سنایا اور مزارعان کو بھی اپنی جھوٹی خوشی پر اطلاع ہو گئی ۔ پس اگر لالہ شرمیت اس نشان سے بھی منکر ہے تو چاہیے کہ قسم کھا کر کہے کہ ایسا کوئی واقعہ ظہور میں نہیں آیا اور ایسا بیان سراسر افترا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی بہت سے لوگ قادیان میں اُن میں سے زندہ ہوں گے جنہوں نے یہ نشان دیکھا ہے۔ اور سوائے اس کے بیسیوں اور ایسے آسمانی نشان ہیں جن کا گواہ رؤیت لالہ شرمیت ہے۔ وہ تو بڑی مشکل میں پڑ گیا ہے۔ کہاں تک آریہ لوگ اُس سے انکار کرائیں گے۔ (۴) بھلا لالہ شرمیت قسم کھا کر کہے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب نواب محمد حیات خان (۳۳) سی ۔ ایس ۔ آئی معطل ہو گیا تھا اور کوئی بریت کی امید نہیں تھی اور اُس نے مجھ سے دعا کی درخواست کی تھی تو میرے پر خدا نے ظاہر کیا تھا کہ وہ بری کیا جائے گا۔ اور میں نے کشفی نظر سے اس کو عدالت کی کرسی پر بیٹھا دیکھا تھا اور یہ بات میں نے اُس کو بتادی تھی اور نہ صرف اُس کو بلکہ بہتوں کو بتائی تھی۔ چنانچہ کشن سنگھ آریہ بھی اس کا گواہ ہے۔ اگر یہ بچ نہیں تو قسم کھاوے۔ (۵) اور پھر لالہ شرمیت قسم کھا کر بتا دے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ جب پنڈت دیا نند نے پنجاب میں آکر بہت شور کیا اور خدا کے برگزیدہ نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کی اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں تحقیر کی اور خدا کے تمام مقدس نبیوں کو سونے کھوٹے کی طرح قرار دیا۔ تب میں نے شرمیت کو کہا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ اب اس کی موت کا دن قریب ہے وہ بہت جلد مرے گا کیونکہ اس کا دل مر گیا ہے ۔ چنانچہ وہ اس پیشگوئی کے بعد صرف چند دنوں میں ہی اجمیر میں مر گیا اور اپنی حسرتیں اپنے ساتھ لے گیا۔ (۶) اور نیز شرمت قسم کھا کر بتلائے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ایک دفعہ اُس کو اور ملا وامل کو (۳۳) صبح کے وقت یہ الہام بتلایا گیا تھا کہ آج ارباب سرور خان نام ایک شخص کا روپیہ آئے گا اور وہ ارباب محمد لشکر خان کا رشتہ دار ہو گا ۔ تب ملا وامل وقت پر ڈاکخانہ میں گیا اور خبر لایا