قادیان کے آریہ اور ہم — Page 435
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳۱ قادیان کے آریہ اور ہم کہ ان لوگوں نے اُس سے بہت ہی بُر اسلوک کیا۔ یہ لوگ زبان سے تو کہتے ہیں کہ پر میشر ہے مگر میں نہیں قبول کرتا کہ اُن کے دل پر میشر پر ایمان لاتے ہیں۔ اُن کا عجیب مذہب ہے کہ جس قدر زمین پر پیغمبر گزرے ہیں سب کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور جھوٹا جانتے ہیں گویا صرف چھوٹا سا ملک آریہ ورت کا ہمیشہ خدا کے تخت کی جگہ رہی ہے اور دوسرے ملکوں سے خدا نے کچھ تعلق نہیں رکھا یا اُن سے بے خبر رہا ہے مگر خدا نے قرآن شریف میں یہ فرمایا ہے کہ ہر ایک ملک میں اس کے پیغمبر آتے رہے ہیں۔ ایسا ہی ہند میں بھی خدا کے پاک پیغمبر اور اس کا کلام پانے والے گذرے ہیں ۔ اور ایسا ہی چاہیے تھا کیونکہ خدا تمام ملکوں کا ہے نہ صرف ایک ملک کا ۔ نہ معلوم کس شیطان نے ان لوگوں کے دلوں میں یہ پھونک دیا ہے کہ بجز وید کے خدا کی ساری کتابیں جھوٹی ہیں اور نعوذ باللہ خدا کا نبی موسی اور خدا کا پیارائیسی اور خدا کا برگزیدہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سب جھوٹے اور مکار گذرے ہیں۔ ہماری شریعت صلح کا پیغام ان کو دیتی ہے اور ان کے نا پاک اعتقاد (۲۰) جنگ کی تحریک کر کے ہماری طرف تیر چلا رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے بزرگوں کو مکار اور جھوٹا مت کہو مگر یہ کہو کہ ہزار ہا برسوں کے گذرنے کے بعد یہ لوگ اصل مذہب کو بھول گئے مگر ہمقابل ہمارے یہ نا پاک طبع لوگ ہمارے برگزیدہ نبیوں کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان کو مفتری اور جھوٹا سمجھتے ہیں ۔ کیا کوئی توقع کر سکتا ہے کہ ایسے ہندوؤں سے صلح ہو سکے۔ ان لوگوں سے بہتر سناتن دھرم کے اکثر نیک اخلاق لوگ ہیں جو ہر ایک نبی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور فروتنی سے سر جھکاتے ہیں۔ میری دانست میں اگر جنگلوں کے درندے اور بھیڑئیے ہم سے صلح کر لیں اور شرارت چھوڑ دیں تو یہ ممکن ہے مگر یہ خیال کرنا کہ ایسے اعتقاد کے لوگ کبھی دل کی صفائی سے اہل اسلام سے صلح کر لیں گے سراسر باطل ہے بلکہ اُن کا اِن عقیدوں کے ساتھ مسلمانوں سے کچی صلح کرنا ہزاروں محالوں سے بڑھ کر محال ہے۔ کیا کوئی سچا مسلمان برداشت کر سکتا ہے جو