قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 434

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳۰ قادیان کے آریہ اور ہم کے ہندو ہی ہیں۔ وہ محض نا واقف تھا۔ اور جب وہ قادیان میں آیا تو قادیاں کے ہندوؤں نے میری نسبت اس کو یہ کہا کہ یہ جھوٹا اور فریبی ہے۔ ان باتوں کو سن کر وہ سخت دلیر ہو گیا اور سخت بگڑ گیا اور اپنی زبان کو بدگوئی میں چھری بنا لیا۔ سو وہی چھری اس کا کام کر گئی۔ خدا کے برگزیدہ اور پاک نبی کو گالیاں دینا اور بچے کو جھوٹا قرار دینا آخر انسان کو سزا کے لائق کر دیتا ہے۔ اگر لیکھر انم نرمی اور تواضع اختیار کرتا تو بچایا جاتا کیونکہ 19 خدا کریم و رحیم ہے اور سزا دینے میں دھیما ہے مگر ان لوگوں نے اس کو بڑا دھوکہ دیا۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی موت کا گناہ قادیان کے ہندوؤں کی گردن پر ہے اور مجھے افسوس ہے حمد اس جگہ یہ واقعۂ قدرت یا درکھنے کے لائق ہے کہ ڈپٹی عبداللہ اعظم کی نسبت یہ پیشگوئی تھی کہ وہ اگر حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا تو پندرہ مہینے میں مر جائے گا اور لیکھرام کی نسبت یہ پیشگوئی تھی کہ وہ چھ سال کے اندر قتل کیا جائے گا۔ پھر چونکہ عبداللہ آتقم پیشگوئی کے دنوں میں بہت روتا رہا اور اس کے دل پر حق کی عظمت غالب آگئی اور اُس نے اس مدت میں کوئی بُر الفظ زبان سے نہ کہا۔ اس لئے خدا نے جو رحیم و کریم ہے اُس کی میعاد کو بڑھا دیا اور وہ کچھ اور قلیل مدت تک زندہ رہ کر مر گیا مگر لیکھرام نے پیشگوئی سننے کے بعد زبان درازی شروع کی جیسا کہ سفلہ ہندوؤں کی عادت ہے اس لئے اس کی اصل میعاد بھی پوری نہ ہونے پائی اور ابھی میعاد میں ایک سال باقی تھا جو پیشگوئی کے مطابق قتل کیا گیا۔ ایسا ہی احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری ہونے کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں نے بہت غم اور خوف ظاہر کیا اس لئے خدا نے اپنے وعدہ کے موافق اس کے داماد کی موت میں تاخیر ڈال دی کیونکہ تمام نبیوں کی زبانی خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جب کسی بلا کے نازل ہونے کی کسی کی نسبت کوئی پیشگوئی ہو اور وہ لوگ ڈر جائیں اور دل ان کا خوف سے بھر جائے اور خدا تعالی سے دعا یا صدقہ خیرات سے رحم چاہیں تو خدا تعالیٰ رحم کرتا ہے۔ اور اسی اصول کے موافق ہر ایک قوم کے لوگ کسی بلا کے وقت صدقہ خیرات کیا کرتے ہیں۔ منہ