قادیان کے آریہ اور ہم — Page 430
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۲۶ قادیان کے آریہ اور ہم باز آجاویں۔ اور مالی امداد سے منہ پھیر لیں مگر دنیا جانتی ہے کہ اس اشتہار کے زمانہ میں میری جماعت ساتھ یا سترے آدمی سے زیادہ نہ تھی۔ چنانچہ یہ امر سر کاری رجسٹروں سے بھی بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ اُس زمانہ میں زیادہ سے زیادہ تھیں یا چالیس روپیہ ماہوار آمدنی تھی ۔ مگر اس اشتہار کے بعد گویا مالی امداد کا ایک دریا رواں ہو گیا ۔ اور آج تک کئی لاکھ لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور اب تک ہر ایک مہینہ میں پانسو کے قریب بیعت میں داخل ہو جاتا ہے۔اس سے ثابت ہے کہ انسان خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ میرا بیان بغیر کسی ثبوت کے نہیں۔ ملا وامل کا اشتہا ر اب تک میرے پاس موجود ہے جو لالہ شرمیت کے مشورہ سے لکھا گیا تھا۔ سرکاری مہمان شماری تو ہمارے سلسلہ کے لئے مقررہی ہے۔ پس اس اشتہار کی تاریخ اشاعت پڑھو اور پھر دوسری طرف سرکاری کا غذات کے ذریعہ سے اس زمانہ اور بعد کے زمانہ کا مقابلہ کرو کہ اشتہار سے پہلے کس قدر مہمان آتے تھے۔ کس قدر رو پیہ آتا تھا۔ اور بعد میں کس قدر خدا کی مدد شامل ہو گئی ۔ یہ امر منی آرڈر کے رجسٹروں اور کاغذات مہمان شماری سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ اُس زمانہ میں جبکہ ملا وال نے اشتہار شائع کیا کس قدر میری جماعت تھی یعنی ان کا غذات سے جو پولس کی معرفت گورنمنٹ میں پہنچے ہیں بخوبی فیصلہ ہو سکتا ہے اور صفائی سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ ملا وامل نے لوگوں کو ۱۳ روکنے کے لئے اشتہار دیا کس قدر میری جماعت تھی اور کس قدر رو یہ آتا تھا اور پھر ! روپیہ بعد میں کس قدر ترقی ہوئی۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قدر ترقی ہوئی کہ جیسا ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔ اور یہ ترقی بالکل غیر معمولی اور معجزانہ تھی ۔ حالانکہ نہ صرف ملا وامل نے بلکہ ہر ایک دشمن نے اس ترقی کو روکنے کے لئے پورا زور لگایا اور چاہا کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی جھوٹی ثابت ہو۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دوسری پیشگوئی پوری ہوگئی یعنی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے فرمایا تھا دشمن لوگوں کے رجوع کو روک نہ سکے۔ اگر انسان حیا اور شرم کا کچھ مادہ اپنے اندر رکھتا ہو تو یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ عمیق در عمیق غیب کی باتیں جو خدائی قدرتوں سے پر ہیں انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں اور سوچ