قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 423

روحانی خزائن جلد ۲۰ قادیان کے آریہ اور ہم ۴۱۹۔ DEDE بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قادیان کے آریہ اور ہم ایک اخبار آریہ صاحبوں کی جو قادیان سے نکلتی ہے اور اب شاید جنوری ۱۹۰۷ء سے اس جگہ سے اس کا خاتمہ ہے اس میں میری نسبت لالہ شرمپت ساکن قادیان کا حوالہ دے کر ایک عجیب تہمت میرے پر لگائی گئی ہے اور وہ یہ کہ جو دسمبر ۱۹۰۶ء کے جلسہ میں ایک تقریب سے میں نے بیان کیا تھا کہ ان آسمانی نشانوں کے جو خدا نے مجھے عطا فرمائے ہیں صرف مسلمان ہی گواہ نہیں ہیں بلکہ اس قصبہ کے ہندو بھی گواہ ہیں جیسا کہ لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل آریہ بھی جو ساکنان قادیان میں ان کو میرے نشانوں کا علم ہے اور اس جلسہ میں (۳) میں نے صرف اسی قدر بیان نہیں کیا تھا بلکہ میں نے تمام مہمانوں کے رو بر وجو ہر یک طرف سے اور نیز دور دراز ملکوں سے دو ہزار کے قریب جمع تھے یہ بھی بیان کیا تھا کہ قطع نظر قادیان کے مسلمانوں کے اس قصبہ کے تمام ہندو بھی میرے نشانوں کے گواہ ہیں کیونکہ اس زمانہ پر پینتیس برس کے قریب مدت گزر گئی جبکہ میں نے یہ ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: کہ اگر چہ اب تو اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں مگر وہ وقت آتا ہے کہ میں ہزاروں انسانوں کو تیری طرف رجوع دوں گا۔ اور اگر چہ اب تجھ میں کوئی مالی طاقت نہیں مگر میں بہت سے لوگوں کے دلوں میں اپنا الہام ڈالوں گا