پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 548

پُرانی تحریریں — Page 58

روحانی خزائن جلد ۲۔ Jay پرانی تحریریں دیکھتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بندوں کو خدائی دل کی آنکھ سے اپنے دیدار دکھاتا ہے کہ پھر جو لوگ ان کے تابع ہوئے اور ان کی پیروی کی وہ اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو خدائی اپنی پہچان بخشے ۔ اس صورت میں یہ دعوئی جو کسی نے خدا کو دیکھا نہیں باعمل ہوا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک اندھا وجود آفتاب سے منکر ہو اور کہے کہ جب تک میں نہ دیکھ لوں آفتاب پر یقین نہ کروں گا اس کا یہی جواب ہے کہ تو اندھا ہے اور آنکھ سے آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا۔ تیرے واسطے طریق حصول تحقیق یہ ہے کہ جنہوں نے دیکھا ہے ان کے بیان پر اعتماد کرنا یا پہلے اپنی آنکھوں کا علاج کرا پھر اس کو دیکھ لے گا۔ ہم دہریہ سے پوچھتے ہیں کہ سکھ دیکھ دینے والا کوئی دوسرا ہے یا اپنی تدبیر سے مل سکتا ہے۔ اگر اپنی تدبیر سے مل سکتا ہے تو کیوں تمام لوگ اپنی عمر زیادہ نہیں کر سکتے ۔ آرام زیادہ نہیں کر سکتے۔ ایک بوڑھا ہو کر مرتا ہے ایک جوان ہی مر جاتا ہے حالانکہ سب کوئی عمر زیادہ چاہتا ہے۔ بعض وقت آدمی سکھ چاہتا ہے اور غیب سے اس پر دکھ آپڑتا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ سکھ دکھ دینے والا کوئی اور نہیں ہے اور وہی خدا تعالیٰ ہے۔ (الحکم مورخه ۲۱ رمئی ۱۹۰۹ء صفحه ۱ تا ۳)