پُرانی تحریریں — Page 54
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ پرانی تحریریں چھوٹا کوٹھا بھی بغیر بنانے والے کے بن نہیں سکتا تھا تو اب کہ بڑا کوٹھا ہے بغیر بنانے والے کے کس طرح بن گیا۔ تیسری دلیل وجود خدا تعالیٰ پر یہ ہے کہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چیز دوسری چیز کی مدد سے طیار ہوتی ہے جیسے درخت پانی کی مدد سے اور بارش ہوتی ہے آفتاب کی مدد سے اور وجود حیوانات کا ہوتا ہے دوسرے حیوانات کی مدد سے اور زمین پر کوئی چیز نظر نہیں آتی کہ بغیر دوسری کے اس کا بچہ ہو سکے یا پیدا ہو سکے۔ پس ایک وجود ایسا ماننا پڑا جو سب کا مددگار ہو وہی واجب الوجود ہے۔ آدمی بنا نطفہ سے اور نطفہ بنا اناج سے اور اناج بنا مٹی سے اور مٹی کہاں سے بنی؟ اگر کہو کہ مٹی خود بخود چلی آتی ہے تو یہ بات ناقص ہے کیونکہ خود بخو د وجود اس چیز کا ہوتا ہے جو دوسری کی کسی حالت میں محتاج نہ ہو لیکن مٹی اکٹھا ر ہنے میں پانی کی محتاج ہے۔ اگر مٹی میں پانی نہ ملا ہو تو مٹی کو ہوا اڑا کر لے جائے اور نیز مٹی نباتات کے اگانے میں پانی کی محتاج ہے اور کوئی محتاج چیز قدیمی نہیں ہو سکتی اور محتاج کو نہیں کہہ سکتے کہ اس کا وجود واجب ہے علاوہ اس کے مٹی سے درخت پیدا ہوئے ہیں اور وہ اس سے بہتر ہیں اور ناقص واجب الوجود نہیں ہوسکتا۔ دلیل چہارم یہ ہے کہ فرمایا ہے خدا تعالیٰ نے فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ اور نیز فرمایا ہے آفِى اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ان دونوں آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ ملاحظہ عالم سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک چیز ایک چیز کی خالق اور فاطر ہے۔ جیسے سورج کی گرمی سے بخارات پیدا ہوتے ہیں اور بخارات سے بادل پیدا ہوتا ہے اور بادل سے پانی پیدا ہوتا ہے اور پانی سے پھل پیدا ہوتے ہیں لیکن خدا ل المؤمنون : ۱۵ ابراهيم : 11: