پُرانی تحریریں — Page 53
روحانی خزائن جلد ۲ jmy پرانی تحریریں عمارت موجود ہیں کہ اب اس زمانہ کے لوگ ان کو بنا نہیں سکتے لیکن یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ بھی معمار تھے جنہوں نے ان کو بنایا مصنوع کے صانع پر ذاتی دلالت ہے خواہ صانع نظر آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ اگر ایک آدمی ایک نئی کل پیدا کرے جو ایک آدمی نے پہلے نہیں کی اور اس جنس کی صنعت پہلے کسی نے نہیں بنائی اور وہ آدمی ہم نے دیکھا بھی نہ ہوتو کیا ہم ایسا خیال کریں گے کہ وہ صنعت خود بخود بن گئی۔ ہر ایک عقلمندی کا کام ایک عاقل کی دستکاری پر دلالت کرتا ہے۔ یہ مثال تعصب اور تاریکی نفس ہے کہ باوجود اقرار اس بات کے کہ ایک صنعت کود یکھ کر یہ کہیں کہ فی الحقیقت یہ عاقلانہ کام ہیں پھر انکار کریں کہ کسی عاقل کی بنائی ہوئی نہیں ذی شعور اور غیر ذی شعور کے فعل میں ہمیشہ ایک فرق ہوتا ہے۔ جس مصنوع میں یہ علامت پائی جاوے کہ اس کے صانع نے اپنے مطالب کو بالا رادہ مدنظر رکھا ہے اور فعل عبث ہیں تو اس مصنوع پر عقل سلیم حکم کرے گی کہ یہ کسی صانع ذی شعور کا فعل ہے جیسے اگر کسی کاغذ پر سیاسی گر جائے تو ممکن ہے کہ انسان نے گرائی ہو یا کسی چوہے نے گرائی ہو یا یونہی اتفاقا گر پڑی ہو لیکن اگر کسی کا غذ پر ایک صفحہ کسی کتاب کا لکھا جائے جو کوئی ضروری مطلب اس سے معلوم ہوتا ہو تو کوئی دانا نہیں کہے گا کہ خود بخود بغیر کا تب کے لکھا گیا پھر اگر یہ ایسے وضع کے حرف ہوں کہ پہلے اس وضع کے حرف ہم نے نہیں دیکھے لیکن جب ہم نے خود سے دریافت کر لیا کہ یہ بھی حرف ہیں اور اس کی عبارت میں صد ہا صفحہ پر برابر بنتے چلے گئے تو پھر اگر چہ ہم نے اسکے کا تب کو نہیں دیکھا اور نہ اس نئی طرز کے کہیں حروف دیکھے لیکن اس میں کیا شک رہے گا کہ ضرور یہ کسی کا تب کا ایجاد ہے۔ دیکھو اگر یہ کوٹھا زمین آسمان ایک چھوٹا کوٹھا ہوتا تو تم اس کی کمال خوبصورتی دیکھ کر ضرور کہتے کہ کسی دانا انسان کا بنایا ہوا ہے پس اب سوچنا چاہیے کہ جس حالت میں اگر یہ