پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 548

پُرانی تحریریں — Page 29

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹ پرانی تحریریں اس کی ضرورت کو چار آنکھوں کی ضرورت کی طرح صرف ایک طمع خام سمجھتے ۔ دوم یہ کہ نجات کے قائل ہوتے لیکن اس کے حصول کے لئے عقائد اور اعمال کا ہر ایک کذب اور فساد سے پاک ہونا ضروری نہ جانتے بلکہ محض باطل یا امور مخلوط حق اور باطل کو بھی موجب نجات کا قرار دیتے۔ سوم یہ کہ حصول نجات کو صرف حق محض سے ہی ( جو امتزاج باطل سے بکلی منزہ ہو ) مشروط رکھتے اور یہ دعویٰ کرتے کہ طریقہ مجوزہ و عقل کا حق محض ہی ہے اور اس صورت میں لازم تھا کہ بغرض اثبات اپنے اس دعوئی کے ہمارے قیاس استقرائی کو (جو حجت کی اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم ہے جس کو ہم مضمون سابق میں پیش کر چکے ہیں) کوئی نظیر معصوم عن الخطا ہونے کسی عاقل کے پیش کر کے اور اس کے علوم نظر یہ عقلیہ میں (۴۲۳ سے کوئی تصنیف دکھلا کر توڑ دیتے پھر اگر حقیقت میں ہمارا قیاس استقرائی ٹوٹ جاتا اور ہم اس تصنیف کی کوئی غلطی نکالنے سے عاجز رہ جاتے تو آپ کی ہم پر خاصی ڈگری ہو جاتی۔ مگر افسوس کہ آپ نے ایسا نہ کیا ہزاروں مصنفوں کا ذکر تو کیا مگر نام ایک کا بھی نہ لیا اور نہ اس کی کسی عقلی نظیری تصنیف کا کچھ حوالہ دیا اب اس تکلیف دہی سے میری غرض یہ ہے کہ اگر الہام کی حقیت میں جناب کو ہنوز کچھ تامل ہے تو بغرض قائم کرنے ایک مسلک بحث کے شقوق ثلاثہ متذکرہ بالا میں سے کسی ایک شق کو اختیار کیجئے اور پھر اس کا ثبوت دیجئے کیونکہ جب میں ضرورت الہام پر حجت قائم کر چکا تو اب رُوئے قانون مناظرہ کے آپ کا یہی منصب ہے جو آپ کسی حیلہ قانونی سے اس حجت کو توڑیں اور جیسا میں عرض کر چکا ہوں اس حیلہ انگیزی کے لئے آپ کے پاس صرف تین ہی طریق ہیں جن میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے میں آپ قانوناً مجاز ہیں اور یہ بات خاطر مبارک پر واضح رہے کہ ہم کو اس بحث سے صرف اظہار حق منظور ہے۔ تعصب اور نفسانیت جو سفہا کا طریقہ ہے ہرگز مرکوز خاطر نہیں۔ میں دلی محبت سے دوستانہ یہ بحث آپ سے کرتا ہوں اور دوستانہ راست طبیعی کے جواب کا منتظر ہوں۔ راقم آپ کا نیاز مند غلام احمد عفی عنہ۔ ۵رجون ۱۸۷۹ء