پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 548

پُرانی تحریریں — Page 28

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸ پرانی تحریریں آپ نے اپنے الہام کی کل بنیاد جس ” ضرورت پر قائم کی ہے درحقیقت وہ ضرورت جبکہ خود بے بنیاد ہے یعنے نیچر کے نزدیک وہ ضرورت قابل تسلیم نہیں ہے تو پھر اگر یہ بھی مانا جاوے کہ جو عمارت آپ نے کسی اپنی بنیاد پر کھڑی کی ہے وہ اچھے مصالحہ کے ساتھ بھی تعمیر کی ہے تاہم وہ بے بنیاد ہونے کے باعث بجز وہم کے اور کہیں ٹھہر نہیں سکتی اور جیسے اس کی (۲۲) بنیاد فرضی ہے ویسے ہی وہ بھی آخر کار فرضی رہتی ہے۔ الہام کے اس غلط عقیدہ کے باعث دنیا میں لوگوں کو جس قدر نقصان پہنچا ہے اور جس قدر خرابیاں برپا ہوئی ہیں اور انسانی ترقی کو جس قدر روک پہنچی ہے اس کے ذکر کرنے کو اگرچہ میرا دل چاہتا ہے مگر چونکہ امر متناقضہ سے اس کا اس وقت کچھ علاقہ نہیں ہے لہذا اس کا بیان یہاں پر ملتوی رکھتا ہوں۔ لاہور ۳/ جون ۱۸۷۹ء آپ کا نیازمند شیونرائن اگنی ہوتری مکرمی جناب پنڈت صاحب آپ کا عنایت نامہ مین انتظار کے وقت میں پہنچا۔ کمال افسوس سے لکھتا ہوں جو آپ کو تکلیف بھی ہوئی اور مجھے کو جواب بھی صحیح صحیح نہ ملا۔ میرے سوال کا تو یہ ماحصل تھا کہ جبکہ ہماری نجات ) کہ جس کے وسائل کا تلاش کرنا آپ کے نزدیک بھی ضروری ہے) عقائد حقہ اور اخلاق صحیحہ اور اعمال حسنہ کے دریافت کرنے پر موقوف ہے کہ جن میں امور باطلہ کی ہرگز آمیزش نہ ہو تو اس صورت میں ہم بجز اس کے کہ ہمارے علوم دینیہ اور معارف شرعیہ ایسے طریق محفوظ سے لئے گئے ہوں جو دخل مفاسد اور منکرات سے بکلی معصوم ہو اور کسی طریق سے نجات نہیں پا سکتے ۔ اس کے جواب میں اگر آپ وضع استقامت پر چلتے اور داب مناظرہ کو مرعی رکھتے تو از روئے حصر عقلی کے جواب آپ کا ( در حالت انکار ) صرف تین باتوں میں سے کسی ایک بات میں محصور ہوتا۔ اوّل یہ کہ آپ سرے سے نجات کا ہی انکار کرتے اور اس کے وسائل کو مفقود الوجود اور ممتنع الحصول ٹھہراتے اور