پُرانی تحریریں — Page 14
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴ پرانی تحریریں جاری رکھنے میں اس کو کچھ دقت اور حرج واقع ہوتا ہے۔ ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لے وہی جو ہمیشہ اس سلسلہ قدرت کو بر پا اور قائم رکھتا ہے وہی تمہارا رب ہے یعنی اسی قدرت تامہ سے اس کی ربوبیت تامہ جو عدم سے وجود اور وجود سے کمال وجود بخشنے کو کہتے ہیں ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ رب الاشیاء نہ ہوتا اور اپنی ذات میں ربوبیت تامہ نہ رکھتا اور صرف مثل ایک بڑھئی یا کاریگر کے ادھر اُدھر سے لے کر گزارہ کرتا تو اس کو قدرت تام ہرگز حاصل نہ ہوتی اور ہمیشہ اور ہر وقت کامیاب نہ ہوسکتا بلکہ بھی نہ کبھی ضرور ٹوٹ آ جاتی اور پیدا کرنے سے عاجز رہ جاتا۔ خلاصہ آیت کا یہ کہ جس شخص کا فعل ربوبیت تامہ سے نہ ہو یعنی از خود پیدا کنندہ نہ ہو اس کو قدرت تامہ بھی حاصل نہیں ہوسکتی لیکن خدا کو قدرت تامہ حاصل ہے کیونکہ قسم قسم کی پیدائش بنانا اور ایک بعد دوسرے کے بلا تختلف ظہور میں لانا اور کام کو ہمیشہ برابر چلانا قدرت تامہ کی کامل نشانی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو ربوبیت تامہ حاصل ہے اور در حقیقت وہ رب الاشیاء ہے نہ صرف بڑھئی اور معمار اشیاء کا ور نہ ممکن نہ تھا کہ کارخانہ دنیا کا ہمیشہ بلا حرج چلتارہتا بلکہ دنیا اور اس کے کارخانہ کا کبھی کا خاتمہ ہو جاتا کیونکہ جس کا فعل اختیار تام سے نہیں وہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر تعداد پر ہرگز قادر نہیں ہوسکتا۔ اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں درج ہے بقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے کہ جس شخص کا فعل کسی وجود کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہو ۔ اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی یعنی عدم سے ہست کرنا بھی ضروری ہے لیکن خدا کا فعل مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہے۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے۔ ثبوت صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ جس صانع کے لئے قدرت تامہ ضروری ہے اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے اس طرح پر ہے کہ عقل اس بات کی يونس : ۴