پیغام صلح — Page 485
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۸۵ یادداشتیں سے نظر آوے اور کوئی کسی کو نہ سے ۔ یہی حال اسلام کا ہے کہ اس کی آسمانی روشنی صرف ایک ہی طرف سے نظر نہیں آتی بلکہ ہر ایک طرف سے اس کے ابدی چراغ نمایاں ہیں۔ اس کی تعلیم بجائے خود ایک چراغ ہے ۔ اور اس کے ساتھ جو خدا کی نصرت کے نشان ہیں وہ ہر یک نشان چراغ ہے۔ اور جو شخص اس کی سچائی کے اظہار کے لئے خدا کی طرف سے آتا ہے وہ بھی ایک چراغ ہوتا ہے ۔ میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گذرا ہے مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی کسی تعلیم کو خواہ اُس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاحت مدنی کا حصہ اور خواہ (۶۳) اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا ۔ اور یہ قول میرا اس لئے نہیں کہ میں ایک شخص مسلمان ہوں بلکہ سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں گواہی دوں ۔ اور یہ میری گواہی بے وقت نہیں بلکہ ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں مذاہب کی کشتی شروع ہے ۔ مجھے خبر دی گئی ہے کہ اس کشتی میں آخر اسلام کو فتح ہے۔ میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے ۔ زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید انجام کا رعیسائی مذہب دنیا میں پھیل جائے یا بدھ مذہب تمام دنیا پر حاوی ہو جائے مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں ۔ یادر ہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے ۔سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا ۔ اس مذہبی جنگ میں مجھے حکم ہے کہ میں حکم کے طالبوں کو ڈراؤں ۔ اور میری مثال اُس شخص کی ہے کہ جو ایک خطرناک ڈاکوؤں کے گروہ کی خبر دیتا ہے جو ایک گاؤں کی