پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 567

پیغام صلح — Page 465

روحانی خزائن جلد ۲۳ پیغام صلح اور حق پوشی میں حد سے گذر گئے ہیں ۔ ہائے افسوس ان کو کیا ہوگیا کہ وہ عمداً صحیح واقعات سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ملک میں ایک بادشاہ کی حیثیت سے ظہور فرما نہیں ہوئے تھے تا یہ گمان کیا جاتا کہ چونکہ وہ بادشاہی جبروت اور شوکت اپنے ساتھ رکھتے تھے اس لئے لوگ جان بچانے کے لئے ان کے جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ پس یہ سوال تو یہ ہے کہ جبکہ آپ کے لئے اپنی غریبی اور مسکینی اور تنہائی کی حالت میں خدا کی توحید اور اپنی نبوت کے بارے میں منادی شروع کی تھی تو اس وقت کس تلوار کے خوف سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ اور اگر ایمان نہیں لائے تھے تو پھر جبر کرنے کے لئے کس بادشاہ سے کوئی لشکر مانگا گیا تھا اور مد دطلب کی گئی تھی ۔ اے حق کے طالبو!! تم یقیناً سمجھو کہ یہ سب باتیں ان لوگوں کی افترا ہیں جو اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔ اور اس مصیبت اور یقیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چرائیں (۳۹) اور بجز خدا کے کوئی متکفل نہ تھا اور چھپیں برس تک پہنچ کر بھی کسی چچا نے بھی آپ کو اپنی لڑکی نہ دی کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا آپ اس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متحمل ہوسکیں اور نیز محض اُمسی تھے اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے پھر جب آپ چالیس برس کے سن تک پہنچے تو ایک دفعہ آپ کا دل خدا کی طرف کھینچا گیا۔ ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے جس کا نام حرا ہے ۔ آپ اکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چھپ جاتے اور اپنے خدا کو یاد کرتے ۔ ایک دن اُسی غار میں آپ