پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 567

پیغام صلح — Page 450

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۰ پیغام صلح تھا اور وہ اس بات کا قائل نہ تھا کہ جو کچھ ہے دید ہے آگے کچھ نہیں اور نہ وہ قوم اور ملک اور خاندان کی خصوصیت کا اقراری تھا یعنی یہ مذہب اس کا نہیں تھا کہ گویا وید پر ہی سب کچھ حصر ہے اور یہی زبان اور یہی ملک اور یہی برہمن پر میشر کے الہام کے لئے ہمیشہ کے لئے اس کی عدالت میں رجسٹر ڈ ہو چکے ہیں۔ لہذا اُس نے اس اختلاف سے بڑا دکھ اٹھایا اور اس کا نام ایک دہر یہ اور ناستک مت والا رکھا گیا۔ جیسا کہ آج کل یورپ اور امریکہ کے تمام محقق جو حضرت عیسی کی خدائی کو منظور نہیں کرتے ۔ اور اُن کے دل اس بات کو نہیں مانتے کہ خدا کو بھی سولی دے سکتے ہیں۔ وہ تمام لوگ حضرات پادری صاحبوں کے خیال میں دہر یہ ہیں۔ سو اسی قسم کا بدھ بھی دہر یہ ٹھہرایا گیا اور جیسا کہ شریر مخالفوں کا دستور ہے عام لوگوں کو نفرت دلانے کی بہت سی تہمتیں اس پر لگائی گئیں ۔ آخر انجام یہ ہوا کہ بدھ آریہ (1) ورت سے جو اس کی زاد و بوم اور وطن تھا نکالا گیا اور اب تک ہندو لوگ بدھ مذہب اور اس کی کامیابی کو بڑی نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر حسب قول حضرت عیسی علیہ السلام کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں دوسرے ملک کی طرف بدھ نے ہجرت کر کے بڑی کامیابی حاصل کی جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ تیسر ا حصہ دنیا کا بدھ مذہب سے پر ہے اور کثرت پیروؤں کے لحاظ سے اس کا اصل مرکز چین اور جاپان ہے۔ اگر چہ وہ جنوبی روس اور امریکہ تک پھیل گیا ہے۔ اب پھر ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ جن زمانوں میں ایک مذہب دوسرے مذہب سے بے خبر تھا۔ اس بے خبری کے عالم میں یہ ایک لازمی امر تھا کہ ہر یک قوم اپنے مذہب اور اپنی کتاب پر ہی حصر رکھتی مگر اس حصر کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ جب ایک ملک دوسرے ملک کے وجود سے اطلاع پا گیا اور ممالک مختلفہ کے لوگ ایک دوسرے کے مذہب سے مطلع ہو گئے۔ تب اُن کے لئے یہ مشکل پڑی کہ ایک ملک کامذہب دوسرے