پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 567

پیغام صلح — Page 449

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴۹ پیغام صلح کے پابند ہیں جیسے پارسی۔ جو اپنے مذہب کی بنیاد وید سے کئی ارب پہلے بتلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال ( کہ ہمیشہ کے لئے اپنے ملک اور اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی زبان کو ہی خدا کی وحی اور الہام سے مخصوص کیا گیا ہے ) محض تعصب اور کمی معلومات سے پیدا ہوا ہے۔ چونکہ پہلے زمانے دنیا پر ایسے گذرے ہیں کہ ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے اور ایک ملک دوسرے ممالک کے وجود سے بکلی بے خبر تھی پس ایسی غلطی سے ہر ایک قوم کو جو خدا کی طرف سے کوئی کتاب ملی یا کوئی خدا کا رسول اور نبی اس قوم میں آیا تو اس قوم نے یہی خیال کر لیا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہدایت ہونی چاہیے تھی وہ یہی ہے اور خدا کی کتاب صرف انہیں کے خاندان اور انہی کے ملک کو دی گئی ہے اور باقی تمام دنیا اس سے بے نصیب پڑی ہے۔ اس خیال نے دنیا کو بہت نقصان پہنچایا۔ اور در اصل با ہمی کینوں اور بغضوں کا بیج جو قوموں میں بڑھتے گئے یہی خیال تھا۔ ایک مدت تک تو ایک قوم دوسری قوم سے پردہ میں رہی اور ایک ملک دوسرے ملک سے مخفی اور مستور رہا یہاں تک کہ آریہ ورت کے فاضلوں کا یہ خیال تھا کہ کوہ ہمالہ کے پرے کوئی آبادی نہیں۔ پھر جب کہ خدا نے درمیان سے پردہ اٹھا لیا اور زمین کی آبادی کے متعلق کسی قدر لوگوں کے معلومات وسیع ہو گئے تو وہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ وہ تمام غلط خصوصیتیں جو الہامی کتابوں اور اپنے رشیوں اور رسولوں کی نسبت لوگوں نے اپنے ہی دلوں سے تراش کر اپنے عقائد میں داخل کر لی تھیں وہ ان کے دلوں میں خوب راسخ اور پتھر کے نقش کی طرح ہو گئیں ۔ اور ہر ایک قوم یہی خیال کرتی تھی کہ خدا کا صدر مقام ہمیشہ انہیں کے ملک میں رہا ۱۸ ہے ہے اور چونکہ اُن دنوں میں اکثر قوموں پر وحشیانہ خصلتیں غالب تھیں اور ایک پرانی رسم کے مخالف کو تلوار کے ساتھ جواب دیا جاتا تھا اس لئے کس کی مجال تھی کہ ہر ایک قوم کی خودستائی کے جوشوں کو ٹھنڈا کر کے اُن کے درمیان صلح کرا تا۔ گوتم بدھ نے اس صلح کا ارادہ کیا