پیغام صلح — Page 447
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴۷ پیغام صلح کہ پہلے سنتا تھا اب بھی سنتا ہے۔ یہ نہیں کہ اب وہ صفات قدیمہ اُس کی معطل ہوگئی ہیں ۔ میں تخمینا تمہیں برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور میرے ہاتھ پر اُس نے اپنے صدہا نشان دکھائے ہیں جو ہزار ہا گواہوں کے مشاہدہ میں آچکے ہیں اور کتابوں اور اخباروں میں شائع ہو چکے ہیں اور کوئی ایسی قوم نہیں جو کسی نہ کسی نشان کی گواہ نہ ہو۔ اب با وجود اس قدر متواتر شہادتوں کے یہ تعلیم آریہ سماج کی جو خواہ نخواہ ویدوں (۱۳) کی طرف منسوب کی جاتی ہے کیوں کر قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تمام سلسلہ خدا کے کلام اور الہام کا ویدوں پر ختم ہو چکا ہے اور پھر بعد اس کے صرف قصوں پر مدار ہے اور اسی اپنے عقیدہ کو ہاتھ میں لے کر وہ لوگ کہتے ہیں کہ ویدوں کے سوا جس قدر دنیا میں کلام الہی کے نام پر کتابیں موجود ہیں وہ سب نعوذ باللہ انسانوں کے افترا ہیں حالانکہ وہ کتا ہیں وید سے بہت زیادہ اپنی سچائی کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ اور خدا کی نصرت اور مدد کا ہاتھ اُن کے ساتھ ہے۔ اور خدا کے فوق العادت نشان اُن کی سچائی پر گواہی دیتے ہیں پھر کیا وجہ کہ وید تو خدا کا کلام مگر وہ کتابیں خدا کا کلام نہیں ؟ اور چونکہ خدا کی ذات عمیق در عمیق اور نہاں در نہاں ہے۔ اس لئے عقل بھی اس بات کو چاہتی ہے کہ وہ اپنے وجود کے ثابت کرنے کے لئے صرف ایک کتاب پر کفایت نہ کرے بلکہ مختلف ملکوں میں سے نبی منتخب کر کے اپنا کلام اور الہام اُن کو عطا کرے تا انسان ضعیف البنیان جو جلد تر شبہات میں گرفتار ہوسکتا ہے دولت قبول سے محروم نہ رہے۔ اور اس بات کو عقل سلیم ہرگز قبول کرنے کے لئے طیار نہیں ہے کہ وہ خدا جو تمام دنیا کا خدا ہے جو اپنے آفتاب سے مشرق اور مغرب کو روشن کرتا ہے ۔ اور اپنے مینہ سے ہر ایک ملک کو ہر ایک ضرورت کے وقت سیراب فرماتا ہے ۔ وہ نعوذ باللہ روحانی تربیت میں ایسا تنگ دل اور بخیل ہے کہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم